انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 247 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 247

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۴۷ سورة التوبة خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ تعالیٰ کی قربت اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ایسے لوگوں کے وورو متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الا إِنَّهَا قُرُبَةٌ لَّهُمْ سَيْدُ خِلُهُمُ اللهُ فِي رَحْمَتِهِ یعنی ان کا ایمان لانا اور خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنا ان کے لئے ضرور خدا تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔س سے پہلے فرمایا تھا قُربتِ عِندَ اللهِ وَصَلَواتِ الرَّسُولِ۔یعنی اُنہوں نے ذریعہ بنایا تھا۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور آپ کے فیوض کو جذب کرنے کا اور آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو فیوض کا ایک دریا چلایا ہے۔ان فیوض سے حصہ لینے کا اور اس کی رحمت میں شریک ہونے کا جو رَحْمَةٌ لِلعالمین کے ذریعہ دُنیا کی طرف نازل ہوئی تھی۔فرمایا کہ ہاں قربةٌ لهُمْ یعنی اسے انہوں نے قربت کا ذریعہ بنایا ہے۔انہوں نے اسے اللہ تعالیٰ کی قربت اور اس کی رضا کے حصول اور اس کے مقرب ہونے کا ذریعہ سمجھا ہے۔یعنی جو لوگ ایمان پر پختگی سے قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں جو مال دیتا ہے وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے متعلق فرمایا۔أَلَا إِنَّهَا قُرُبَةٌ لَهُمُ الله تعالیٰ کی رضا انہیں ضرور حاصل ہوگی۔دوسرے فرمایا تھا وَ صَلَواتِ الرَّسُولِ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور ان کی قبولیت کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کے لئے وہ دعائے مغفرت کرتے ہیں۔پس گو ظاہری لحاظ سے اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور آپ کے فیوض سے بہرہ ور ہوں گے لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ رَحْمَةٌ لِلعالمین ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو رَحْمَةٌ لِلعالمین کے فیوض سے حصہ پائے۔پس چونکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیوض سے حصہ لئے بغیر کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل نہیں ہوسکتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرما یا سَید خِلُهُمُ اللهُ فِي رَحْمَتِهِ تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرمایا کہ ان کی قربانیوں کی جو غرض تھی یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور آپ کے روحانی فیوض کا ورثہ ملے۔یہ ان کو حاصل ہو جائے گا، کیونکہ اس کے بغیر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ نہیں لے سکتے۔