انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 241

۲۴۱ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث حکم جو ہے اس کا ایک پہلو انذار کا نکل آتا ہے یعنی یہ کہا کہ اپنے بھائی سے حسن سلوک کر۔اسے دکھ نہ پہنچا۔دونوں معنی منفی اور مثبت دونوں چیزیں۔اگر وہ دکھ پہنچاتا ہے حکم نہیں مانتا تو وہ انذار ہے اگر وہ سکھ پہنچاتا ہے تو وہ بشارت بن جاتی ہے۔عملاً اگر وہ ایسا کرتا ہے أُولَبِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللهُ خدا تعالیٰ کی رحمت کے وارث ہوں گے۔کون لوگ؟ وہ مومن مرد اور مومن عورتیں جو بعض بعض کے خیر خواہ ہیں۔امر بالمعروف کرنے والے، منکر سے روکنے والے، نمازوں کو قائم کرنے والے، زکوۃ کو دینے والے، غرض کہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی پوری اور سچی اور کامل اطاعت کرنے والے۔اوليك 999171 سيرحمهم الله - تو جو شخص باہمی دوستی اور خیر خواہی نہیں رکھتا، امر بالمعروف نہیں کرتا، نہی عن المنکر نہیں کرتا ، نماز کو شرائط کے ساتھ قائم نہیں کرتا پڑھتا تو ہے لیکن شرائط کے ساتھ قائم نہیں کرتا، زکوۃ کو اس کی شرائط کے ساتھ ادا نہیں کرتا۔غرضیکہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت میں کمی کرتا ہے وہ اندار ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاؤ گے اگر ایسا کرو گے۔یہ آخر میں میں نے دو آیتیں اس لئے لی تھیں اس کا دوسرا حصہ نبی والا حصہ بھی ایک دوسری آیت میں ہے۔دونوں سامنے آجائیں گی تو آپ پر مضمون واضح ہو جائے گا۔دوسری آیت میں ہے کہ ایک گروہ ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا۔ہے ایمان کا دعوی کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ خدا تعالیٰ ان کی وہ کوششیں جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے بظاہر نظر آتی ہیں، قبول نہیں کرے گا۔ان کے صدقات قبول نہیں کئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے عذاب کا سامان پیدا کرے گا اور ہیں وہ انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے اور نماز ادا کرنے والے۔یہ وہ گروہ ہے جن کے متعلق خدا کہتا ہے کہ ان کی قرب الہی کی کوششیں قبول نہیں ہوں گی۔خدا تعالیٰ ان کے لئے عذاب پیدا کرے گا۔بظاہر وہ خرچ بھی کرتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔مومن بھی ہیں اور کفر اللہ بھی کر رہے ہیں اور رسول کا بھی کفر کر رہے ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۱۱، ۲۱۲)