انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 240
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۲۴۰ سورة التوبة میرا تیر سوائے سیب کے کسی اور چیز کو نہیں لگ سکتا اور یہ مشق اور مہارت تھی۔یہ ان کی کھیل تھی۔زمانہ بدل گیا ہے اس واسطے میں اپنے خدام اور انصار اور اطفال اور ناصرات سے کہتا ہوں کہ آج کی جنگ جن ہتھیاروں سے لڑنی ہے ان ہتھیاروں کی مشق ، مہارت ، اور آپ کا ہنر اور پریکٹس کمال کو پہنچی ہوئی ہو۔شکل بدلی ہوئی ہوگی۔اس زمانے میں دفاع کے لئے اور دشمن کے منصوبہ کو ناکام بنانے کے لئے مادی اسلحہ کی بھی ضرورت تھی، غیر مادی ہتھیاروں (بصائر وغیرہ) کے استعمال میں بھی ان کو مہارت حاصل تھی۔مگر ہمارے ہتھیار صرف وہ بصائر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔بصائر سے مراد دلائل ہیں۔بصیرت کی جمع بصائر ہے ایک تو ہے نا آنکھ کی نظر۔ایک ہے روحانی نظر جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (الحج: ۴۷) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں روحانی طور پر وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں دھڑک رہے ہوتے ہیں۔ایک تو ہماری جنگ بصائر کے ساتھ ہے اور بصائر کہتے ہیں وہ دلیل جو فکری اور عقلی طور پر برتری رکھنے والی اور مخالفین کو مغلوب کرنے والی ہو ہمارے ہتھیار ( نمبر دو ) نشان ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا اظہار جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اس لئے اور اس وقت عطا کرتا ہے جب وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ لڑرہے ہوں۔اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔دعاؤں کے ساتھ اسے جذب کیا جا سکتا ہے۔اس کے لئے بصائر سیکھنے، دعائیں کرنے کے جو مواقع ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۵۳ تا ۲۵۷) آیت ۱۵۴ وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَ هُم كَرِهُونَ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءَ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكوة و يُطِيعُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ أُولَبِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَ قرآن کریم میں بشارتوں کے ساتھ انذاری پہلومختلف جگہ ساری تعلیم ہی یہ بھری ہوئی ہے یعنی ہر