انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 239

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۹ سورة التوبة کر رہے ہو تم۔آپ نے اپنی پیادہ فوج کو پیچھے کیا اور تیراندازوں کو آگے بلا یا اور تیراندازوں کو یہ حکم دیا کہ تم یہ جو سامنے تمہارے کھڑے ہیں ہم پر رعب ڈالنے کے لئے ان میں سے ایک ہزار کی آنکھ نکال دو تیر سے۔اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں ان تیراندازوں نے ایک ہزار کی آنکھ میں نشانہ ٹھیک بٹھایا اور آنکھ نکال دی۔اس کے مقابلہ میں مشہور ہے کہ ایک بادشاہ بیوقوف تھا وہ سمجھتا تھا میں بڑا بہادر، ماہر فن ہوں ، جنگ جو ہوں تو مشق کر رہا تھا اور کوئی نشانہ بھی اس کا بلز آئی (Bull's eye) پر نشانہ نہ بیٹھتا تھا۔کوئی دس گزا دھر پڑتا تھا کوئی دس گز ادھر پڑتا تھا۔کوئی راہی گذر رہا تھا اس نے سوچا بادشاہ سے مذاق کر رہے ہیں سارے۔جہاں وہ نشانہ مار رہا تھا وہ وہاں کھڑا ہو گیا جائے۔تو حواری خوشامد خورے کہنے لگے نہ نہ پرے ہٹ پرے ہٹ مرنا چاہتا ہے؟ بادشاہ سلامت تیراندازی کر رہے ہیں۔اس نے کہا صرف یہ جگہ محفوظ ہے جہاں تیر نہیں لگ سکتا باقی دائیں بھی لگ رہا ہے، بائیں بھی لگ رہا ہے او پر بھی نکل رہا ہے ورے بھی پڑ رہا ہے، اس جگہ پر نہیں آرہا۔ایک وہ تیرا نداز تھا اور ایک یہ تیرانداز کہ ایک ہزار انسان کی آنکھ میں نشانہ مارا ٹھیک اور وہ جو سپہ سالار نے رعب ڈالنا چاہا تھا مسلمانوں پر وہ نا کام ہو گیا۔وہ سب بھاگے اس طرف سے جہاں ان پر تیر پڑ رہے تھے اور شہر کے دوسری طرف جاکے اور دروازہ کھول کے باہر نکل گئے اور سارے شہر میں شور مچادیا کہ مسلمانوں نے ہماری آنکھیں نکال دی ہیں۔خدا کہتا ہے۔وَ لَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لاعد واله عدت اور اس زمانہ کا مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ تیاری کا یہ مطلب ہے کہ اگر یہ حکم ہو کہ ایک ہزار آنکھ نکال دو ایک ہزار آنکھ نکال دی جائے گی۔یہ ہے تیاری! تیاری کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج سامنے آ جائے تو آٹھ گھنٹے ایک مسلمان لڑتارہے گا کامیابی کے ساتھ لڑے گا اور فاتح ہو گا۔ہر روز ، ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج سے لڑنے کے بعد شام جو نتیجہ نکلتا تھا وہ کسریٰ کی اسی نوے ہزار فوج کی شکست اور ان اٹھارہ ہزار مسلمان ، دعا گو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنے والے، توحید خالص پر قائم ہونے والے مسلمان کی فتح۔یہ نتیجہ نکلتا تھا۔تیاری اس کا نام ہے قرآن کریم کے نزدیک جو مسلمان نے سمجھا۔تاریخ میں آتا ہے کہ اتنی تیاری کرواتے تھے اپنے بچوں کو کہ بارہ سال کا بچہ آٹھ سال کے بھائی کے سر پر سیب رکھ کے تیر سے اڑا دیتا تھا۔اگر دو تین انچ بھی نشانہ سے نیچے پڑے تو ماتھے پہ لگے اور مرجائے بھائی لیکن اس کو پتا تھا کہ