انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 236
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۶ سورة التوبة پہنچنے میں لگتا ہو تو جمعہ جو ایک فرض نماز ہے اس میں تو وہ شامل نہیں ہو سکے گا اور ممکن ہے وہ اپنے دل کو طفل تسلی دینے کے لئے یہ کہہ دے کہ اوہو! بڑی دیر ہوگئی ہے۔ہن تے جمعہ ملنا ہی نہیں بن جان دا کی فائدہ اے۔کوئی گل نئیں گھر میں بیٹھ جاندے آں پس جس آدمی کی کام کرنے کی نیت ہو وہ اس کے لئے تیاری کیا کرتا ہے۔ایک چھوٹی سی اور مثال دے دیتا ہوں۔جس عورت یا جس بیوی کی یہ خواہش ہو کہ وہ اور اس کا میاں اور بچے بھوکے نہ رہیں۔تو وہ چولہا جلاتی ہے۔گرمیوں کے دنوں میں تکلیف اُٹھاتی ہے۔آگ کے سامنے بیٹھتی ہے اور سالن تیار کرتی ہے اور روٹیاں پکاتی ہے لیکن اگر کوئی عورت ( اور ایسی عورتیں ہیں ہمارے سامنے ان کے واقعات آتے رہتے ہیں) یہ کہے کہ مجھے تو اپنے میاں اور بچوں کا بڑا خیال ہے لیکن میں گرمی برداشت نہیں کرسکتی۔میں ان کے لئے کھانا نہیں پکا سکتی اس لئے وہ جائیں جہنم میں۔جو مرضی آئے کرتے رہیں۔اب ان سے پیار کا اظہار بھی ہے اور جہنم میں بھجوانے کی باتیں بھی کرتی ہے۔اس قسم کی باتیں ایسی ہیں جن کو انسانی عقل قبول نہیں کرتی۔اللہ تعالیٰ جو عقل گل کا منبع اور سر چشمہ ہے وہ ان کو کیسے قبول کرے گا۔پس ہم نے تیاری کرنی ہے۔یہ ہمارا فرض ہے۔جماعت احمدیہ کے افراد کو انفرادی اور اجتماعی ہر دو اعتبار سے جتنی جتنی وسعت اور استطاعت ہے وہ پوری کی پوری خدا کی راہ میں خرچ کر دیں۔پھر اللہ تعالیٰ کا ان کو پورا ثواب اور پیار ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں کیا ہی خوب فرمایا ہے۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔جو کمی رہ جائے گی اس کے لئے فرمایا۔لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكتسبت (البقرة: ۲۸۷) پہلے ٹکڑے میں بشارت دی گئی اور عظیم بشارت دی گئی ہے لیکن عظیم بشارت کے مطابق تم سے وہ قربانی نہیں مانگی گئی جس کی تم کو طاقت نہیں دی گئی لیکن جتنی تم کو طاقت دی گئی ہے اس کے مطابق انتہائی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور پھر کامیابی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔وہی کامیابی عطا کرتا ہے وہ آسمانوں سے سامان نازل کرتا ہے۔وہ زمین سے کہتا ہے کہ میری تدبیر کو کامیاب کرنے کے لئے سامان اُگلو۔چنانچہ بہتے ہوئے چشموں کی طرح سامان مہیا ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ قادر مطلق ہے۔اس کے لئے کوئی چیز ان ہونی نہیں ہے لیکن جو ہماری ذمہ داری ہے وہ ہم نے بہر حال نباہنی ہے۔اس کے بغیر تو کوئی چارہ کار نہیں ہے۔(خطبات ناصرجلد پنجم صفحہ ۲۰۳ تا ۲۰۵)