انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 235 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 235

۲۳۵ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث غالب کرے اور ہر وہ طاقت خواہ وہ مذہب کا لباس پہن کے، خواہ وہ عقل اور فلسفے کی چادر میں لپٹ کے اسلام پر حملہ آور ہو، کر دیئے جائیں گے۔اس لئے جو جرنیل بن کے آیا اسے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وہ سارے مذاہب اور ازم اور تحریکیں جو اسلام کو مٹانے میں کوشاں تھیں۔ان کے خیالات کا جواب قرآن کریم سے سکھا یا اتنا مؤثر کہ اس کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۷۰،۱۶۹) آیت ۴۶ وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَا عَدُ والهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُم فَتَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَعِدِينَ قرآن کریم نے کہا ہے۔وَ لَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَا عَدُ والهُ عُدنا کہ کسی کام کے کرنے سے پہلے بڑی تیاری کرنی پڑتی ہے۔اگر چہ یہ منافقوں سے کہا گیا ہے کہ اگر تمہیں جہاد میں شامل ہونا تھا تو جہاد میں شامل ہونے کے لئے جس قسم کی تیاری کی ضرورت تھی وہ تمہیں کرنی چاہیے تھی۔تاہم اس میں ایک اصول یہ بتایا گیا ہے کہ جس قسم کا کام ہوتا ہے اس قسم کی پوری تیاری کرنی چاہیے۔کسی کام کی تیاری کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ کام کرنے کی نیت ہے۔اگر کوئی شخص مثلاً جمعہ کی نماز میں شامل ہونے کے لئے (چھوٹی سی مثال لیتا ہوں تا کہ چھوٹے بچے بھی سمجھ جائیں) یہ کہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ جمعہ میں شامل ہوں۔اب وہ جمعہ کی نماز میں شامل تو ہونا چاہتا ہے مگر یہاں جمعہ ہوتا ہے ڈیڑھ بجے سوائے اس کے آج میں آ گیا ہوں اور وقت بدل دیا ہے اور آپ کو نصف گھنٹے تک انتظار کروایا ہے۔بہر حال اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ڈیڑھ بجے سے پہلے کھانا کھا لے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ڈیڑھ بجے سے پہلے غسل کر کے نئے کپڑے پہن لے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھر سے ایسے وقت چلے کہ ڈیڑھ بجے سے پہلے پہلے احمدیہ ہال میں پہنچ جائے۔اگر ایک گھنٹے کا راستہ ہے اور کوئی شخص یہ کہے کہ جمعہ میں شامل ہونے کی میرے دل میں تو اتنی خواہش ہے اور نہ شامل ہو کر مجھے اتنا دکھ ہوتا ہے کہ کراچی میں کسی احمدی کے دل میں جمعہ چھوڑنے پر اتناد کھ نہیں ہوتا۔اب وہ دعویٰ تو یہ کرے لیکن گھر میں بیٹھا رہے اور جب ڈیڑھ بجے جائے تو سستی سے آنکھیں ملتا ہوا نیم دلی سے وضو کرے اور کپڑے بدلے اور کہے دیر ہو گئی ہے اب نہانا چھوڑتا ہوں اور پون گھنٹہ اسے اپنے گھر سے یہاں