انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 234
۲۳۴ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دینا۔اس کے لئے قرآن کریم کے اسرار مکنون کی ضرورت ہے۔اس لئے جہاں یہ کہا گیا کہ آخری عروج جو چوٹی پر پہنچے گا جب نوع انسانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کے سایہ تلے آ جائیں گے اور ان کے سینے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے قرآن کریم کے نور سے بھر جائیں گے تو اس کے لئے اس قرآن کریم کی تفسیر کی ضرورت تھی کہ جو اس آخری زمانہ کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والی اور تمام مسائل کو حل کرنے والی ہو۔اس لئے جس کو خدا نے بھیجا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک غلام کی حیثیت سے، ایک روحانی فرزند کی حیثیت سے، ایک عظیم اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور قوت قدسیہ کے نتیجہ میں فاتح جرنیل کی حیثیت سے، اسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اتنے عظیم اسرار قرآنی اور اس کے معانی سکھائے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پچھلی صدی کے آخر میں اسلام پر غیروں کا زبردست حملہ تھا اور ہر مذہب یہ سمجھتا تھا کہ شاید وہ اسلام کو مٹانے میں غالب آ جائے گا اور کامیاب ہو جائے گا۔عیسائیت ساری دنیا میں پھیل جانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔اور اس وقت ہندوستان بٹوارے سے پہلے جس شکل میں تھا، بڑے بڑے مسلمان علماء مثلاً عماد الدین صاحب اور دیگر بہت سارے ہیں ان کے نام چھپے ہوئے ہیں کتابوں میں ، انہوں نے اس اثر کے ماتحت اسلام چھوڑ کے عیسائیت کو قبول کر لیا تھا اور انہی حضرت عمادالدین نے یہ لکھا کہ عنقریب ایک زمانہ آنے والا ہے ہندوستان میں کہ جب سارے ہندوستان کے مسلمان عیسائی ہو چکے ہوں گے اور اگر کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگی کہ مرنے سے پہلے کسی مسلمان کا چہرہ تو دیکھ لے کہ مسلمان ہوتے کیسے ہیں تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی یعنی ایک بھی مسلمان نہیں رہے گا۔ہندو آریوں کی شکل میں حملہ کر رہے تھے۔بدھ مذہب اپنی تیزیاں دکھا رہا تھا۔فلسفیانہ خیالات جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کے اپنی عقل سے باتیں بناتے ہیں، وہ بھی یہ امیدیں رکھ رہے تھے کہ اسلام کو مٹادیں گے مثلاً کارل مارکس ہے، اپنے زمانہ کا بڑا فلسفی اور اس کے خیالات کے نتیجہ میں دنیا میں اشتراکیت آئی۔جس نے یہ دعویٰ کیا ( اشتراکیت نے ) کہ ہم زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کومٹادیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا منصوبہ کچھ اور تھا۔اللہ تعالیٰ کا منصوبہ یہ تھا کہ اسلام کو