انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 233
۲۳۳ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کا زمانہ آ گیا۔آپ کی زندگی ایک عظیم مجاہد اسلام کی زندگی ہے۔آپ کا جو عمل تھا وہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند اور آپ کے ایک عظیم محبوب کا عمل تھا۔خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور جلال کو قائم کرنے کے لئے آپ کو جو نشانات دیئے وہ ہر میدان میں عظیم تھے لیکن وہ پہلی جو حرکت تھی اور تحریک جاری ہوئی تھی اسلام کے غلبہ کے لئے اور جس کے اثرات آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے اُن سے وہ کئی ہوئی نہیں تھی بلکہ اسی جدو جہد کے تسلسل میں تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک سے شروع ہوئی تھی۔شاید کسی نے یہ خیال کیا ہو کہ اتنا بڑا واقعہ ہو گیا ڈوئی کے ساتھ اور عیسائیت کو اس قدر عظیم شکست ہو گئی اب شاید کوئی فوری انقلابی تبدیلی ظاہر میں نظر آنے والی پیدا ہو جائے عیسائی دُنیا میں لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ مقدر یہ ہے اور پہلے سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ جہاد جاری رہے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ ابھی تین صدیاں نہیں گزریں گی یعنی تین صدیاں حتمی ہیں ان کے اندر اندر ہو سکتا ہے ڈیڑھ صدی میں اور ہوسکتا ہے دوصد یاں لگ جائیں، اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه کا یہ اعلان اپنی پوری شان کے ساتھ دُنیا کے سامنے عملاً ایک صداقت کی شکل اختیار کر جائے گا اور واقعہ میں اسلام دُنیا کے ہر خطہ میں اور دُنیا کے ہر مذہب پر غالب آئے گا اور دنیا میں اسلام ہی اسلام ہو گا اور ایک ہی خدا ہو گا جس کی پرستش کی جائے گی اور ایک ہی پیشوا ہوگا محمدصلی اللہ علیہ وسلم جس کی عظمت اور جلال کے ترانے گائے جائیں گے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۳۶۹ تا ۳۷۳) قرآن کریم میں ایک آیت ہے کہ هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ على الدين كله حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قرآن عظیم کی تعلیم کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو تمام دنیا میں غالب کرے گا اور یہ غلبہ بتدریج ہوگا اور یہ غلبہ اپنے عروج کو جیسا کہ تمام اولیاء اور بزرگ لکھتے چلے آئے ہیں اپنے عروج کو مہدی اور مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں پہنچے گا۔قرآن کریم کا غلبہ، قرآن کریم کی عظمت کو قائم کرنا، قرآن کریم کے نور کو ساری دنیا میں پھیلا