انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 232
۲۳۲ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہدی کے خلاف اُٹھا تھا اور بڑی ذلّت کے ساتھ اُس نے شکست کھائی تھی اور اُس وقت کے اخبارات اس عظیم نشان سے بھرے پڑے ہیں۔پھر خود ہندوستان میں عیسائیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مناظرہ ہوا جس میں دلائل کے ساتھ اور بڑے عظیم علم کلام کے ذریعہ اسلامی تعلیم کی برتری ثابت ہوئی۔یہ آتھم کے ساتھ مناظرہ ہوا تھا جو جنگ مقدس کے نام سے چھپا ہے۔پھر نشانوں کی دُنیا میں جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو اُن کے دشمنوں نے صلیب پر لٹکا کر مار دینا چاہا لیکن وہ نا کام ہوئے ، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے اس مسیح کے خلاف بھی عیسائی دنیا نے سازشیں کیں کہ کسی طرح وہ پھانسی چڑھ جائیں چنانچہ آپ کے خلاف مقدمے بنائے گئے، ہر قسم کی جھوٹی گواہیاں پیش کی گئیں۔حکومت عیسائیوں کی تھی ، گواہیاں عیسائیوں کی تھیں، ان گواہیوں کو مضبوط کرنے والی کچھ اور گواہیاں بھی تھیں۔حالات سازگار نہیں تھے لیکن خدا اپنے وعدوں کا سچا ہے جیسا کہ اُس نے کہا تھا ویسا ہی اُس نے کر دکھایا کہ لوگ تیرے ساتھ نہیں ہوں گے لیکن میں تیرے ساتھ کھڑا ہوں گا اور تجھے دشمنوں کی ہر بد تد بیر سے بچاؤں گا۔اب یہ جوڈوئی کا واقعہ ہے یا جو علمی لحاظ سے عیسائیوں کے ساتھ ہندوستان میں مناظرہ ہوا تھا اور اس سے اسلام کی برتری ثابت ہوئی یہ تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے ہر صدی میں اسلام کے حق میں اسلام کے دشمنوں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے وقت وقت کے اولیاء کو اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہونے والے اور آپ کے جاں شاروں کو روحانی علوم سکھائے اور اُنہوں نے مخالف اسلام طاقتوں کا علمی میدان میں مقابلہ کیا۔اُنہوں نے مخالف اسلام طاقتوں کا مقابلہ کیا آسمانی نشانوں میں، دعاؤں کی قبولیت میں۔اُنہوں نے بڑے نشان دکھائے انسانی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے۔کچھ نشان انسان نے یادر کھے اور کچھ کو انسان بھول گیا۔یہ تو درست ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ انسانی تاریخ معمور ہے اس قسم کے علمی نشانوں سے اور آسمانی نشانوں سے اور ان نشانوں سے بھی جن کو ہم قبولیت دعا کا نشان کہتے ہیں۔پس ایک مسلسل حرکت ہے جس میں ضعف تو آیا لیکن وہ حرکت بند نہیں ہوئی جو اسلام کو غالب کرنے کے لئے پہلے دن سے شروع ہو چکی تھی اور یہ جاری رہی یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام