انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 16 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 16

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة ساتھ تعلق رکھتا ہے اسی طرح اس کا تعلق کتاب مبین کے اس حصہ کے ساتھ ہے جو اعتراضات کو رفع کرنے والا ہے اور پہلوں نے اللہ تعالیٰ سے سیکھا اور جس کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے۔دوسرے نئے معارف قرآنی نئی ضرورتوں کو پورا کرنے اور نئے مسائل کو حل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے جو مسائل اور الجھنیں مثلاً آج سے ہزار سال پہلوں کی تھیں وہ مسائل یا ان میں کچھ کا تعلق آج سے بھی ہے یعنی مسائل بالکل ہی بدل نہیں جاتے۔بہت سے مسائل انسانی زندگی کے ایسے ہیں جو اپنے آپ کو دہراتے ہیں جو اصرار کرتے ہیں اس بات پر کہ ہم بار بارآ ئیں گے اور تمہارے لئے الجھنیں پیدا کریں گے۔ان بار بار الجھنیں پیدا کرنے والے مسائل کا حل پہلوں کو سکھا دیا گیا کیونکہ ماضی سے اس کا تعلق ہے اور جو ان مسائل کوحل کرنے کے لئے معارف اور حقائق اور اسرار قرآنی پہلوں کو بتائے گئے تھے آج ان کی ضرورت باقی رہی۔اس سے ہم غنی اور بے نیاز نہیں بن جاتے۔پس کتاب مبین کا حصہ بھی ایسا نہیں جس کی ہمیں ضرورت نہ ہو بلکہ ان دو وجوہ کی بنا پر ہمیں آج بھی ان کی ضرورت ہے ایک اس لئے کہ آج سے ہزار سال پہلے جو اعتراضات اسلام پر کئے گئے تھے ان میں سے بہت سے اعتراضات اسلام پر آج بھی کئے جارہے ہیں۔پس ان کے جوابات پہلے بزرگوں کو خدا تعالیٰ نے سکھائے اور کتاب مبین میں وہ موجود ہیں ہمیں ان کی بھی ضرورت ہے۔اس لئے ہمیں کتاب مبین کو بھی پڑھنا چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔پھر آج سے پانچ سو سال پہلے یا ہزار سال پہلے نوع انسانی کو یا نوع انسانی کے بعض حصوں کو جن مشکلات اور الجھنوں کا سامنا تھا آج بھی نوع انسانی کے بعض گروہوں کو بعض قوموں کو بعض مقامات پر اس قسم کے بعض مسائل اور الجھنوں کا سامنا ہے اور قرآن کریم نے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے اور الجھنوں کو دور کرنے کے لئے ہم سے پہلے بزرگوں کو قرآن کریم کی تعلیم بتادی تھی کہ قرآن کریم کی تعلیم اور ہدایت ان مسائل کو اس رنگ میں حل کرتی ہے اور اس میں نوع انسانی کا فائدہ ہے۔اس لحاظ سے بھی کتاب مبین کا جاننا ہمارے لئے ضروری ہے۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۲۹۷ تا۳۰۰)