انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 229 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 229

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۲۹ سورة التوبة خواہش پیدا کرے اور ترقیات کے ان غیر متناہی راستوں پر چلتے ہوئے وہ اپنے رب کے قرب کو زیادہ سے زیادہ پائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرے۔یہ خواہش جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں پیدا کی ہے اس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر تم اپنے نفس کا محاسبہ کرو تو تم میں سے ہر ایک شخص یہ جان لے گا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش عطا کی ہے کہ وہ اس کی زیادہ سے زیادہ رضا کو حاصل کر سکے۔پس سوال پیدا ہو گا کہ اللہ کی رضا کو اور حقیقی مسرتوں کو اور خوشیوں کو اور کامیابیوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کا طریق کیا ہے اور وہ کونسی ہستی ہے جو ہمیں زیادہ سے زیادہ عطا دے سکتی ہے؟ چنانچہ ان آیات میں جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے إِنَّ اللهَ عِنْدَةٌ أَجْرُ عظیم۔یعنی تمہاری اس خواہش کی تکمیل اس ہستی سے وابستہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہاری قوتوں اور ضرورتوں کا علم رکھتا ہے اور وہ ہر قسم کی قوت اور قدرت اور تصرف کا مالک ہے کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے آگے انہونی ہو یا جو اس کی قدرت میں نہ ہو یا جو اس کے تصرف سے باہر ہو وہ اللہ ہے تمام صفات حسنہ سے متصف اور ہر قسم کی کمزوری اور ضعف سے پاک اور مطہر۔پس تمہاری اس خواہش کی تکمیل کہ تم ترقیات میں تم رفعتوں کے حصول میں ہم حقیقی عزتوں کے پانے میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ سوائے اللہ کے اور کہیں سے نہیں ہوسکتی۔وہی ہے جو اس خواہش کی تکمیل کر سکتا ہے۔وہی ہے جس کے قرب کی راہیں جس کے وصال کی منازل غیر متناہی ہیں۔ہرمنزل کے بعد ایک دوسری منزل، ہر قرب کے بعد ایک ارفع، زیادہ حسین، زیادہ لذت اور سرور والا قرب کہ جس کی کیفیت ہماری زبان بیان نہیں کر سکتی لیکن بہر حال ہم نے اپنی زبان ہی میں بیان کرنے کی خواہش کرنی ہے تم اس کی توفیق سے یہ ساری چیزیں حاصل کر سکتے ہو۔پس وہ جو خود محدود ہے وہ تمہاری اس غیر محدود خواہش کی تکمیل کیسے کر سکتا ہے خود تمہاری عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتی کیونکہ یہ دنیا ایک محدود دُنیا ہے دُنیا کے اموال محدود، دُنیا کی عرب تیں محدود، دنیا کے اقتدار محدود، غرض محدود اشیاء ایک غیر محدود خواہش کی تکمیل کر ہی نہیں سکتیں بڑی غیر معقول بات ہوگی اگر ہم یہ کہیں کہ ایک محدود غیر محدود کی تکمیل کا اہل ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارے اندر غیر محدود اور لا متناہی ترقیات کی خواہش پیدا کی گئی ہے