انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 228

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۲۸ سورة التوبة ایمان ہو گا اپنے صحیح مفہوم کے ساتھ ، تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول دوشکلوں میں ہوگا ایک رضوان کی شکل میں اور ایک جنّت نعیم کی شکل میں۔پس یہ مفہوم ان مختصر سی آیات میں بیان ہوا ہے۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۳۸ تا ۴۵) اللہ تعالیٰ کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے انسان کا نفس کسی ایک جگہ ٹھہر نا پسند نہیں کرتا بلکہ ہر ترقی کے بعد مزید ترقیات حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور ہر بلندی کے حصول کے بعد مزید رفعتوں تک پہنچنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔یہ خواہش اگر صحیح راستے پر گامزن رہے تو اس سے بہتر اور کوئی خواہش نہیں ہوسکتی لیکن اگر یہ خواہش صراط مستقیم سے بھٹک جائے تو پھر اس سے بدتر اور گندی خواہش اور کوئی نہیں ہوسکتی۔آپ دیکھتے ہیں کہ اس دُنیا میں بہت سے لوگوں کے دل میں جب اقتدار کی ہوس پیدا ہوتی ہے تو وہ اپنے ماحول میں ہر طریقے سے ظلم کی سب راہوں کو اختیار کر کے اپنا اقتدار اور تسلط جمانا چاہتے ہیں جب انہیں کچھ اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو انہیں مزید اقتدار کی ہوس پیدا ہو جاتی ہے اور اس طرح ظلم میں زیادتی ہوتی رہتی ہے اس طرح دنیا دارلوگوں کے دلوں میں جب دولت کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو ان کی یہ بھنگی ہوئی خواہش ہر بڑی اور نا پاک راہ کو تلاش کرتی ہے اور ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ سے دُور سے دُور تر لے جاتی ہے۔یہ سب گندگی کے دروازے ہیں جنہیں ہم رشوت کا دروازہ ، چوری کا دروازہ، دھوکہ بازی کا دروازہ ، جعل سازی کا دروازہ ، اور احتکار ( مال کو ناجائز طور پر روکے رکھنے ) وغیرہ وغیرہ کا دروازہ کہتے ہیں یہ سب دروازے اسی گندی خواہش کے نتیجہ میں کھلتے ہیں۔غیر متناہی ترقیات کی خواہش ایک بڑی پاک چیز تھی لیکن جب شیطان نفس کو ورغلاتا اور اسے صراطِ مستقیم سے دور لے جاتا ہے تو وہی عظیم خواہش جو انسان کی عظمت کے لئے اسے دی گئی تھی وہ اس کی ہے ذلت اور رسوائی کا سبب بن جاتی ہے بہر حال انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پیدا کی۔کہ وہ ان رفعتوں کے حصول میں جو اس نے اپنے بندے کے لئے پیدا کی ہیں کسی جگہ پر بھی پہنچ کے مطمئن نہ ہو جائے بلکہ چونکہ قُرب کے غیر متناہی راستے اس کے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔اس لئے وہ ایک رفعت کے حصول کے بعد اس سے بلند تر مقام پر پہنچنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے بعض جلووں کے مشاہدہ کے بعد اس کی محبت کے اور بھی روشن تر اور حسین جلوے دیکھنے کی اپنے اندر