انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 225 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 225

سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۲۵ دینا کہ غیب پر ہم ایمان لاتے ہیں یہ کافی نہیں ہے محض یہ کہ دینا کہ آیات اللہ پر ہم ایمان رکھتے ہیں کافی نہیں ہے تو پھر کیا تقاضا ہم سے کیا گیا ہے؟ مطالبہ ہم سے کیا ہے؟ یہ سوال ہوتا ہے میں نے بتایا ہے کہ محض زبان کا اقرار کافی نہیں اللہ پر ایمان تب مقبول ہوتا ہے جب اللہ پر ہم وہ ایمان لائیں جس کا قرآن کریم ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم ایمان لائیں کہ اللہ وہ ہے۔اللہ وہ ہے۔اگر ہم اللہ کو ایک ایسی ہستی سمجھیں کہ ساری احتیاجیں اور ضرورتیں صرف اس تک لے کر جانی چاہئیں جیسا کہ قرآن کریم نے کہا ہے تو یہ کافی ہو جائے گا، ایک حصہ اس کا لیکن اگر ہم کہیں تو یہ کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ضرورت کے وقت ہم قبر کی طرف دوڑیں ضرورت کے وقت ہم کسی صاحب اقتدار کی طرف دوڑیں ضرورت کے وقت ہم کسی مالدار کی طرف دوڑیں۔ضرورت کے وقت ہم کسی ہوشیار سازشی آدمی کی طرف دوڑیں ضرورت کے وقت ہم کسی سفارش کی طرف دوڑیں۔ضرورت کے وقت ہم رشوت کی طرف دوڑیں اور اس کے ساتھ یہ کہیں کہ ہم اس اللہ پر ایمان لاتے ہیں جسے قرآن کریم نے غنی کہا کہ وہ کسی کا محتاج نہیں اور سارے اس کے محتاج ہیں اور جس کو صمد کہا ہے تو یہ دعویٰ غلط ہو گا پس ایمان باللہ کا کیا مفہوم ہے؟ قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ ہمیں پتہ لگنا چاہیے ورنہ محض یہ کہنا کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں محض یہ کہنا کہ اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ یہ میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ جس شخص نے یہ کہا کہ اللہ ایک ہے وہ جنت میں چلا گیا تو اس کا یہ مفہوم نہیں تھا کہ اگر مارگولیتھ یاکسی اور مستشرق معاند اسلام نے کتاب پڑھتے ہوئے اَشْهَدُ اَنْ لا إلهَ إلا الله کہہ دیا تو وہ جنت میں چلا گیا بلکہ مطلب یہ تھا کہ جو شخص یہ گواہی دیتا ہے اپنے دل سے بھی اور اپنی زبان سے بھی اور جوارح سے بھی کہ میں اس اللہ کو اس طور پر مانتا ہوں جس طور پر اور جس طریقے پر اللہ کوقرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے تو جنت میں چلا گیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پھر وہ جنت ہی میں گیا کیونکہ پھر تو اس کی اپنی زندگی کوئی نہ رہی پھر تو اللہ کے در پر بیٹھا اور اپنا سب کچھ دُنیوی اموال بھی اور اپنا نفس بھی اس کے حضور پیش کر دیا اور وہ خالی ہاتھ ہو گیا اور اس نے اپنے رب کو کہا کہ اے خدا! تیری رضا کے لئے میں اپنا سب کچھ چھوڑتا ہوں اور تُو میری رُوح کو اپنی محبت اور پیار سے بھر دے۔پھر وہ اللہ کو ماننے والا بھی ہوا اور اُسی کے لئے اعظمُ دَرَجَةً بھی کہا جا سکتا ہے۔