انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 222

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۲۲ سورة التوبة کی جاہ و حشمت تو محدود ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے قرب اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے جلوے غیر محدود ہیں کسی جہت سے بھی اُن کا احاطہ اور ان کی حد بست نہیں کی جاسکتی۔پس جس وقت انسان روحانی میدانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف حرکت کرتے ہوئے اس کے قرب کے حصول کے لئے بڑھ رہا ہوتا ہے تو یہی کوشش ایسی ہوتی ہے کہ جو فطرت کے اس تقاضا کو پوری کر سکے کہ اُسے غیر متناہی ترقیات چاہئیں اور اُسی کی جستجو میں وہ ہمہ وقت مشغول رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے آخر میں یہ فرما یا ران اللهَ عِندَةٌ أَجْرٌ عَظِیم کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ایک ایسی ذات ہے کہ جب وہ اجر دینے لگے نیکیوں کا ، جب قبول کرنے لگے تمہارے مجاہدات کو تو وہ اجر اتنا عظیم ہو گا کہ اس سے بڑھ کر کوئی اجر تصویر میں نہیں آ سکتا۔غرض ان آیات میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم اپنی فطرت کی اس خواہش کو، اس Urge (ارج) کو پورا کرنا چاہتے ہو کہ غیر متناہی خوشیاں، غیر متناہی لذتیں، اللہ تعالیٰ کی غیر متناہی نہ ختم ہونے والی ) رضا تمہیں حاصل ہو تو یہ چیز تمہیں صرف اللہ سے مل سکتی ہے، اس کی طرف تم رجوع کرو اگر تم بھٹک گئے ، اگر تم نے صراط مستقیم کو چھوڑ دیا، اگر تم اس خواہش کو نہ سمجھے اور اس کی سیری کے لئے صحیح کوشش نہ کی تو دنیا کی حرام کمائی بہت حد تک تمہیں مل جائے گی مگر وہ عظیم نہیں ہوگی۔دُنیا کا اقتدار بھی شاید تم پالو ایک وقت تک لیکن ہمیشہ کے لئے اور دنیوی لحاظ سے بھی ایسی عزت تمہیں نہیں ملے گی کہ جو اتنی بڑی ہو کہ اس سے بڑھ کر تصویر میں نہ آسکے وہ عزت، پیار کا وہ مقام اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں محبت کے جلوے جو نہ ختم ہونے والے ہیں یہ ابدی اور لا متناہی اجر تم اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں محبت کے جلووں ہی میں دیکھ سکتے ہو کہیں اور تمہیں نہیں مل سکتا۔پس اجر عظیم کی خواہش انسان کے دل میں ہے اجر عظیم کا حصول انسان کے لئے ممکن قرار دیا گیا ہے اور اجر عظیم اللہ کے در کے سوا کہیں اور سے مل نہیں سکتا اس لئے اس ڈر پر ڈھونی رما کر بیٹھ جانا چاہیے وہیں سے ہمیں یہ اجر مل سکتا ہے۔اس اجر کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ان آیات میں بیان کی ہیں ایک ایمان، ایک ہجرت اور ایک مجاہدہ اور ان کے مقابلہ میں تین فضل اور تین قسم کے انعام کا ذکر کیا ہے رحمت ، رضوان اور جنات نعیم کا۔ایمان ایک عام لفظ ہے یعنی بڑا وسیع ہے اتنا وسیع کہ اسلام کے ہر حکم پر اس نے احاطہ کیا ہوا ہے ایمان کس پر لانا ہے اور ایمان کے تقاضے کیا ہیں اس کا تفصیل سے قرآن کریم میں ذکر پایا جاتا ہے اور ایمان کے مقابلے میں جو انعام رکھا گیا ہے