انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 15
۱۵ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کے سامنے آگئے کیونکہ جو مخفی بطون تھے اور قیامت تک جنہوں نے ظاہر ہونا تھا ان کی طرف بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجمالی اشارے کئے۔اس وقت میں اس مضمون کی طرف توجہ نہیں دوں گا۔جس طرح کتاب پڑھنے والا ہر صفحہ پڑھنے کے بعد کتاب کا صفحہ الٹاتا ہے اسی طرح ہر زمانہ کے مطہرین نے زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات کے لحاظ سے قرآن عظیم کے نئے بطون کو سیکھا اور سیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے حاجت زمانہ کے مطابق نئی تفسیر قرآن دنیا کے سامنے پیش کی جو نئے اسرار وبطون قرآنی کے ظہور کے بعد کتاب مبین کا حصہ بن گئی۔بدلتے ہوئے زمانہ کے ساتھ ظاہر ہو جانیوالے رموز و اسرار قرآنی جو مبین اور کھلے کھلے علوم قرآنی ہیں ان کی بھی دو وجوہات کی بنا پر آج ضرورت ہے۔ایک اس لئے کہ ماضی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن کریم کے وہ معانی اور اسرار اور معارف اور حقائق کے حصے جو ماضی کی ضرورتوں اور حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے اور جو ماضی کے اعتراضات کو رڈ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے تھے کہ دنیا کے سامنے پیش کئے جائیں۔وہ سارے اعتراضات ایسے نہیں کہ جو قصہ پارینہ بن گئے ہوں بلکہ ہر آنے والے کو اساطیر الاولین بھی کہا گیا کہ اس کی باتیں تو وہی ہیں جو پہلوں نے کہی تھیں۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان باتوں پر بھی وہی اعتراضات ہیں جو پہلوں نے کئے تھے۔چونکہ اسلام پر ماضی کے اعتراضات خود کو دہراتے ہیں اس لئے ان اعتراضات کے جو صحیح اور مسکت جوابات ہیں جو کتاب مبین کا حصہ ہیں انہیں بھی ہمیں دہرانا پڑتا ہے۔پس کتاب مبین کی آج بھی ضرورت ہے یعنی وہ صحیح اورحقیقی تفسیر قرآنی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم سے پہلوں نے کی اس کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی اور لسانی تفسیر کی ہر آن ضرورت ہے ہمارا بیان بعد میں آنے والی مظہرین کی جماعتوں سے تعلق رکھتا ہے ) اس لئے کہ تفسیر کے جس حصہ کا تعلق ماضی کے اعتراضات کو دور کرنے کے ساتھ ہے جب وہ اعتراضات آج بھی دہرائے جاتے ہیں اور جس حد تک وہ اعتراضات اب بھی دہرائے جاتے ہیں اس حد تک کتاب مبین میں جوان اعتراضات کے مسکت جوابات ہمیں ملتے ہیں وہ ہمیں یاد ہونے چاہئیں۔پس ایک تو قرآن سیکھنا اور سکھانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ ابدی صداقتوں کے