انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 14
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۴ سور ورة المائدة آیت ۱۶ يَاَهْلَ الْكِتَب قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا ممَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَبِ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نور و كتب مبين۔قرآن عظیم کے دو پہلو ہیں۔ایک اس کا کتاب مبین ہونا ہے اور دوسرا پہلو اس کا کتاب مکنون ہونا ہے۔کتاب مبین ہونے کی ابتدا یعنی قرآن عظیم کا یہ پہلو جو پہلی مرتبہ نوع انسانی کو نظر آیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی اور لسانی تفسیر کے ساتھ ہے یعنی آپ کی زندگی قرآن کریم کی عملی تفسیر تھی اور آپ کے ارشادات قرآن کریم کی لسانی تفسیر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت کی اور ہم اس مسئلہ کو سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد تفسیر قرآن ہے۔وہ قرآن پر کوئی اضافہ نہیں کیونکہ اگر اس کو اضافہ سمجھا جائے تو قرآن کریم کو نعوذ باللہ اس حد تک ناقص سمجھا جائے گا حالانکہ قرآن عظیم میں کوئی نقص اور خامی اور کمی نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن پر عمل اور آپ کے ارشادات قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔پس پہلا انسان وہ انسانِ کامل تھا جس نے اس کامل شریعت اور ہدایت کی اپنے عمل اور اپنی زبان سے تفسیر کی اور اس کے بطون میں سے بعض کی تفصیلی تفسیر کر دی اور بعض کی اجمالی تفسیر کی جو مخفی بطون کی صحیح تفسیر کو پرکھنے کے کام آ سکتے ہیں۔بہر حال جو تفصیلی تفسیر قرآن آپ نے فرمائی اس کے نتیجہ میں قرآن کریم کا کتاب مبین ہونا دنیا میں ظاہر ہو گیا۔اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انتباع اور آپ سے محبت رکھنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے بننے کے بعد امت محمدیہ میں لاکھوں ایسے مقترب فرزندانِ اسلام پیدا ہوئے جن کا معلم، معلم حقیقی اللہ تبارک و تعالی خود بنا اور مطہرین کے اس گروہ نے اپنے اپنے زمانہ میں اس زمانہ کی حاجتوں اور ضرورتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ سے قرآن عظیم کی تفسیر سیکھی اور اپنے زمانہ کے لوگوں کے سامنے اسے بیان کیا۔اپنے زمانہ کے جو نئے اعتراضات اسلام اور قرآن عظیم پر پڑ رہے تھے ان کا رڈ کیا اور انہیں غلط ثابت کیا لیکن کتاب مبین کی ابتدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی اور آپ کے ارشادات اور آپ نے جس طرح قرآن عظیم کی تفسیر بیان کی اس سے قرآن عظیم کی ابدی صداقتیں اور بنیادی حقیقتیں بھی اور بطون بھی تفصیلاً یا اجمالاً دنیا