انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 220
۲۲۰ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث لگا دینا۔پوری طاقت خرچ کرنا تا کہ اسلام کا دشمن ناکام ہوشیطان کے ہتھیار کند ہو جائیں اور انسانی نفس خدا کا بندہ بن کر زندگی گزارے شیطان کا بندہ بن کر زندگی نہ گزارے۔اس لئے جو جماعتی پروگرام ہیں ان کو ہم نہ نظر انداز کر سکتے ہیں نہ بے توجہی سے اُن کو لے سکتے ہیں ، نہ ہمارا عمل مقدور بھر کوشش جو مجاہدہ کی جان ہے اُسے کئے بغیر کامیاب ہو سکتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۸۵ تا ۲۸۸) دوسری جگہ بشارتیں دیں انتہائی کامیابی تمہیں ملے گی تمہاری کوششوں کا بہترین نتیجہ نکلے گا اپنے رب کریم کی طرف سے تمہیں عظیم الشان رحمت نصیب ہوگی۔خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کا پیار تمہیں ملے گا۔دائمی نعمتوں والی جنتیں تمہارے نصیب میں ہوں گی۔یہ ساری بشارتیں ہیں نا۔انتہائی کامیابی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان رحمت کا ملنا اس کا راضی ہو جانا۔اس کے پیار کا حاصل ہو جانا۔ایسی جنتوں کا ، رضا کی جنتوں کا ملنا جو دائمی ہیں جو ایک دفعہ مل جائیں پھر چھینی نہیں جاتیں لیکن ساتھ انذار ہے۔وہی جو دوسری جگہ ہے میں نے بتایا ہے نا کہ دراصل وہ سارے اعمال کو یعنی جو کہ کرنے کے ہیں ان کی اطاعت کرنا۔اس اطاعت میں انتہائی توجہ اور انتہائی زور لگا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا نمونہ ظاہر کرنا۔ވ۔الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ انْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللہ۔انتہائی کامیابی جس کا میں نے ترجمہ کیا تھا۔یہ بشارت ہوگئی نا أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ أُولَبِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ کامیابی بڑی ہے۔يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ ان کو بشارت دو۔یہ ساری بشارتیں ہی ہیں جس کو میں نے کہا تھا نا بشارت۔آپ میں سے کسی کا دماغ ادھر نہ چلا جائے کہ وہ تو جزا ہے۔کوئی جزا نہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔يُبَشِّرُهُم رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ خدا تعالیٰ اپنی رحمت کی انہیں بشارت دیتا ہے۔رضوان اور اپنی رضا کی انہیں رحمت دیتا ہے۔وَجَنْتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مقیم ابدی نعماء والی جنتوں کی انہیں بشارت دیتا ہے۔جن میں وہ ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔اور خدا تعالی بڑا اجر دینے والا ہے لیکن هَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَ انْفُسِهِمْ یہاں جہاد کے معانی کا تجزیہ کر کے اس کو کھول کے بیان کر دیا ہے، اپنے اموال سے اور اپنے نفسوں سے یعنی خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفوس کی تہذیب کرنا، انہیں پالش کرنا اور خدا کی ملتِ اسلامیہ اور