انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 216
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۱۶ سورة التوبة ہے اور زکوۃ دیتا ہے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا سوقریب ہے کہ ایسے لوگ کامیابی کی طرف لے جائے جائیں۔کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور خانہ کعبہ کو آباد رکھنے کے کام ) کو اس شخص (کے کام) کی طرح سمجھ لیا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا یہ ( دونوں گروہ) اللہ کے نزدیک (ہرگز) برابر نہیں۔اور اللہ ظالم قوم کو ہرگز کامیابی کی طرف نہیں لے جاتا۔( وہ لوگ) جو (کہ) ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور ( پھر ) اللہ کے راستہ میں اپنے مالوں (کے ذریعہ سے بھی ) اور جانوں کے ذریعہ سے (بھی) جہاد کیا اللہ کے نزدیک درجہ میں بہت بلند ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ان کا رب ان کو اپنی عظیم الشان رحمت کی خبر دیتا ہے اور (اپنی) رضامندی اور ایسی جنتوں کی بھی جن میں ان کے لئے دائمی نعمت ہوگی۔(وہ) ان میں بستے چلے جائیں گے ( یا درکھو کہ ) اللہ کے پاس یقینا بہت بڑا اجر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ وہ لوگ جن کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل کے جذبات کی وجہ سے یہ کہا تھا کہ اے خدا! ان میں سے وہ لوگ جو ایمان پر قائم ہیں تو اپنی رحمتوں کے ثمرات ان کے لئے میٹر کرنا اور خدا تعالیٰ نے جواب میں کہا کہ نہیں جو ایمان پر قائم نہیں رہیں گے ان کے لئے بھی میں دنیوی انعامات اور دنیا کی رحمتیں مہیا کروں گا۔پس ان نسلوں کی ان قربانی دینے والی نسلوں کی ان فدائی نسلوں کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کی تیاری کے لئے ہر چیز کی قربانی دینے کے جو ثمرات تھے اس میں ان کو بھی شامل کیا گیا حالانکہ وہ راہ راست سے بھٹک چکے تھے لیکن پھر وہی لوگ اور وہی نسل جن کے آباؤ اجداد نے اتنی عظیم قربانیاں دی تھیں ان کو خدا تعالیٰ کی یہ سرزنش بھی سننی پڑی۔اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ کیا تم نے ان ظاہری چیزوں کو سب کچھ سمجھ لیا ہے تمہیں خدمت کے لئے مامور کیا گیا تھا اور تم نے اس عظیم ہستی کے خلاف فتویٰ دے دیا ہے جس کے لئے یہ ساری تیاری ہورہی تھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی تو ان کو مسلمان سمجھنے سے انکار کر دیا اور صابی صابی کہنے لگ گئے۔غرض کتنی زجر ہے اس آیت میں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الأخر پھر حالات بدلے اور وہ جو دنیا کا نجات دہندہ تھا اور وہ جو دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا اس کی امت بن گئی۔پھر خدا نے کہا جو قربانی حضرت ابراہیم کی نسلوں نے