انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 212
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۲۱۲ سورة الانفال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اندازہ لگایا کہ اتنا نازک وقت تو نہیں۔لیکن بہر حال اتنا نازک ضرور ہے کہ مجھے نصف مال خدا کی راہ میں دے دینا چاہیے۔تو ہر شخص اپنی اپنی استطاعت اور قوت اور استعداد کے مطابق اور اپنے اپنے مقام ایمان کے مطابق اندازہ لگا کر ایسے موقعوں پر خدا کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کرتا ہے۔لیکن کوئی خاص حد بندی مقرر نہیں۔جیسا کہ تحریک جدید کے چندوں کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کوئی حد بندی مقرر نہیں کی۔لیکن اس خواہش کا ضرور اظہار کیا ہے کہ ایک مہینہ کی آمد کا ۱٫۵ سالا نہ تم دیا کرو تا کہ سلسلہ کی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔بعض لوگ اب بھی اس سے زیادہ دیتے ہیں۔اور بعض ایسے ہیں جو ۱/۵ بھی نہیں دیتے ۱۰ / ا دیتے ہیں ۱۵ / ا دیتے ہیں ۲۰/ ۱ دیتے ہیں۔مجاہدہ کی ایک شکل جو قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ قتال فی سبیل اللہ ہے۔یعنی جب دشمن زور بازو سے اسلام کو مٹانا چاہے اور مادی ہتھیار لے کر اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو باوجود اس کے کہ وہ اپنے دشمن کے مقابلہ میں بہت کمزور ہوتے ہیں، دفاع کی اجازت دیتا ہے۔اور پھر حکم دیتا ہے کہ ضرور دفاع کرو۔اور یہ حکم اس لئے دیتا ہے تا کہ کمزوروں کی کمزوری ظاہر ہو جائے۔اگر صرف اجازت ہو تو بعض کہیں گے کہ سب کو لڑائی میں جانا تو ضروری نہیں ہے۔اور پھر اس وقت اپنی زندہ طاقتوں اور زندہ قدرتوں کا ایک نمونہ دنیا کو دکھاتا ہے کہ دیکھو مومن تھوڑے بھی تھے، کمزور بھی تھے، غریب بھی تھے پھر ان کے پاس ہتھیار بھی نہیں تھے باوجود اس کے جب وہ ہمارے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ہمارے اور اپنے دشمن کے مقابلہ پر آگئے۔تو انہیں فتح نصیب ہوئی۔اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کا معجزانہ رنگ میں اظہار فرماتا ہے۔اس کے علاوہ مجاہدہ کی ایک شکل ہمیں قرآن مجید سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے۔وَلَبِن قُتِلْتُم في سَبِيلِ اللهِ اَوْ مُثْمُ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللهِ وَرَحْمَةٌ (ال عمران : ۱۵۸) یہاں صرف قتل کئے جانے کا ذکر ہے۔ضروری نہیں کہ جنگ میں قتل ہو۔اگر آپ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہو گا۔کہ مسلمان صرف میدان جنگ میں ہی شہید نہیں کئے گئے۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر ہزاروں