انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 210
۲۱۰ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کی ہجرت بھی نہیں رہی مگر وہ ہجرت کا اطلاق تھا ایک خاص واقعہ ہجرت پر۔ورنہ ہجرت اپنے عام معنی کے لحاظ سے قیامت تک کے لئے قائم ہے اس لئے قرآن کریم میں آتا ہے هَاجَدُوا اور قرآن کریم کا کوئی لفظ بھی منسوخ نہیں ہو سکتا۔تو فرماتا ہے کہ وہ لوگ خدا کی خاطر اپنوں کو اور اپنی املاک کو چھوڑتے ہیں ( مثلاً آج کل کے زمانہ میں واقفین زندگی اپنے گھروں کو چھوڑ کر غیر ممالک میں چلے جاتے ہیں جہاں کے رواج بھی مختلف ، جہاں کے حالات بھی مختلف جہاں کے کھانے بھی مختلف۔پھر بڑی تنگی اور بڑی سختی کے دن وہاں گزارتے ہیں ) یہ بھی مُهَاجِرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَا مُجَاهِدٌ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ ہیں۔(۲) دوسرے یہاں یہ فرمایا کہ وہ لوگ بھی مجاہد ہیں الَّذِینَ اوَوُا وَ نَصَرُ وا جوان بھائیوں کو جو مظلومیت کی حالت میں ان کے پاس جاتے ہیں۔اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں۔اور ان کی امداد کرتے ہیں۔کیونکہ یہ بھی مجاہدہ میں شامل ہے۔پس فرمایا کہ یہ دو قسمیں جو ہیں ایک ہجرت کرنے والوں کی اور دوسرے مہاجروں کو پناہ دینے والوں کی۔أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا یہ وہ مجاہد ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے کہ یہ حقیقی مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے مغفرت اور رزق کریم مہیا کرے گا۔واقفین زندگی بھی تحریک جدید کے ایک مطالبہ کے تحت مانگے گئے تھے۔اور یہ مطالبہ بھی ایک شکل ہے مجاہدہ کی۔کیونکہ ہر وہ کام (جیسا کہ پہلی آیات سے واضح ہوتا ہے ) جو خدا کی رضا کی خاطر اور اس کے قرب کے حصول کے لئے کیا جائے۔اور جس کے کرنے میں انسان اپنی پوری توجہ اور پوری قوت صرف کر رہا ہے۔اور اس سے جو کچھ بن آئے کر گزرے۔اسے خدا تعالیٰ مجاہدہ کے نام سے پکارتا ہے۔تو قرآن کریم کی ایک آیت بڑی وضاحت سے بتا رہی ہے کہ وقف زندگی بھی مجاہدہ کی ایک قسم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۴ میں فرمایا کہ ہمارے احکام کے مطابق عمل کر کے اُمت محمدیہ میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جنہیں دین کی خدمت میں لگایا گیا ہو گا۔اور مشاغل دنیا سے انہیں روک دیا گیا ہو گا۔(اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ ) تو بتایا کہ ان کو تمام ان مشاغل سے روک دیا جائے گا کہ جو سبیل اللہ کے مشاغل نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کے علاوہ دنیا