انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 203
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۲۰۳ سورة الانفال نیکیوں کو بجالاتے ہیں اور باطنی اور ظاہری قومی سارے کے سارے خدا کیلئے اور اس کی راہ میں وقف کر دیتے ہیں۔تو غیر اللہ کی ہر بات ماننے سے انکار اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر اپنا سب کچھ قربان کر دینا اس طرف هَاجَرُوا اور جَاهَدُوا فِي سَبِیلِ اللہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومن کی علامت یہ ہے کہ الذین اورا وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہیں اور اپنے گھروں کے دروازے اپنے بھائیوں کے لئے کھولنے والے ہیں۔ایک تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے سب کچھ اپنے شہروں میں چھوڑ دیا (زیادہ تر مکہ میں ) اور مدینہ کی طرف وہ ہجرت کر گئے ان مومنوں کو مدینہ میں رہنے والے انصار نے پناہ دی اور اپنے گھر میں ان کو ٹھہرایا اور وہ یہاں تک تیار تھے کہ اگر خدا کا یہی منشا ہو کہ ہم اپنا سب کچھ نصف نصف کر کے نصف اپنے مہاجر بھائیوں کو دے دیں تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں۔یہاں تک کہ اگر اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہو کہ اگر ہماری دو بیویاں ہیں تو ہم ایک کو طلاق دے دیں اور اپنے بھائی سے یہ خواہش رکھیں کہ وہ اس بیوی سے عدت گزرنے پر شادی کر لے تو یہ بات بھی ہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن صرف اس حد تک اس لفظ کے معنی کو محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ جب بھی ایک مسلمان بھائی کو ضرورت پڑے تو ہمارا یہ فرض ہے کہ وَالَّذِيْنَ اووا وَ نَصَرُوا پر عمل کرنے والے ہوں۔یعنی جب بھی ایک مسلمان خدا تعالی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے گھر سے نکلے اور کسی دوسرے مقام تک پہنچے تو اس دوسرے مقام پر رہنے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کو اپنے مکانوں میں رہائش کے لئے جگہ دیں۔جیسا کہ اب جلسہ سالانہ آ رہا ہے جلسہ سالانہ پر باہر سے آنے والے سردی کی شدت برداشت کرتے ہوئے اور اپنے بچوں کو اور بیویوں کو انتہائی جسمانی تکلیف میں ڈالتے ہوئے ربوہ میں پہنچتے ہیں۔ربوہ میں آنے کی غرض یا مرکز سلسلہ میں پہنچنے کا مقصد یہ تو نہیں ہے کہ یہاں وہ دنیا کمانا چاہتے ہیں وہ محض خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور قرآن کریم کے احکام کو سننے کے لئے اور اپنے بھائیوں سے ملنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے جو فضل سال کے دوران جماعت پر ہوتے رہے ہیں ان کو دیکھنے اور ان کا حال سننے کے لئے آتے ہیں وہ صرف اس لئے آتے ہیں اور صرف اس لئے یہ تکالیف برداشت کرتے ہیں کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو جلسہ پر بلایا تو