انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 202
۲۰۲ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفتہ المسیح الثالث دعوی کے مطابق ہوں۔تب حقیقی ایمان بنتا ہے۔ایک منہ کا ایمان ہے لوگ عام طور پر کہہ دیتے ہیں کہ جی ہم ایمان لائے۔صرف زبانی دعوی ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں وَهَاجَرُوا اور ان تمام باتوں سے رکے رہتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے وَ جَاهَدُوا فِي سَبِیلِ اللہ اور وہ تمام کام کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ کرو۔وَالَّذِينَ أَودا ونَصَرُوا اور اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر اسلامی معاشرہ کو وہ قائم کرتے ہیں اور وہ جو خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری میں اپنے گھروں کو چھوڑتے ہیں۔یہ لوگ ان کو اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں وَنَصَرُوا اور ہر طرح ان کی مدد کرتے ہیں تو یہ سچے مومن ہیں۔هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا۔تو سچے مومن کی پانچ نشانیاں یہاں بیان کی گئی ہیں۔ایمان کے معنی یہاں یہ ہیں کہ وہ لوگ جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کا تمام وجود ایک ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔یہ ایمان ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے یعنی ہم اس اعتقاد اور یقین پر قائم ہوں کہ حقیقی وجود اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور مجھے بطور انسان کے اس لئے بنایا ہے کہ میں اپنا وجود اس کی راہ میں کھودوں اور اپنے ارادوں کو چھوڑ کر اس کے ارادوں اور اس کی رضا کو قبول کرلوں اور اس کی معرفت حاصل کر کے اس کے قرب کی راہوں پر چلنے کی کوشش کروں اور میرے دل میں سوائے اس پاک ذات کی محبت کے کسی اور کی محبت باقی نہ رہے۔یہ کامل ایمان ہے جس کی طرف وَالَّذِينَ آمَنُوا میں آمَنُو کا لفظ اشارہ کر رہا ہے۔اور دراصل اس کی دو کیفیتوں کو زیادہ وضاحت کے ساتھ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا میں بیان کیا گیا ہے هَاجَرُوا میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جائے اور اس کی اپنی کوئی خواہش یا اپنا کوئی ارادہ باقی نہ رہے اور وہ کلی طور پر ہر اس چیز سے پر ہیز کرنے والا ہو جس سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔پس نفس امارہ کے تمام حکموں کو ٹھکرا دینے والا اور اللہ تعالیٰ کے سب حکموں کی پابندی کرنے والا اور تمام حکموں کو ماننے والا ہی پکا مومن ہوتا ہے اور پکے مومنوں کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جَاهَدُوا فِي سَبِیلِ اللهِ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ لوگ لگا دیتے ہیں اور اپنی ہر ایک قوت اور خدا داد توفیق سے وہ حقیقی