انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 201
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۰۱ سورة الانفال کافی، خدا کے علاوہ تجھے اور کسی کی ضرورت نہیں اور جو کامل تیرے متبع بن گئے ہیں کامل طور پر اور تجھ میں فانی ہو گئے اور اپنے وجود کو تیرے وجود میں کھود یا اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، تیرے کامل متبع ہو گئے اس معنی میں جس معنی میں لفظ انتباع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استعمال کیا گیا ہے قرآن کریم میں، ویسے مومن تیرے لئے کافی ہیں۔وہ جب تین تھے ( تاریخ پر اب ہم نظر ڈالتے ہیں ) اس وقت وہ تین کافی تھے، چوتھے آدمی کی مدد کی آپ کو ضرورت نہیں تھی۔جب سو ہوئے وہ سو کافی تھے ، ایک سوا کویں کی ضرورت نہیں تھی۔جس وقت دنیا اکٹھی ہوگئی تو دو چار ہزار کافی ہو گئے۔میں نے مشاہدہ کیا اور غور کیا اور یہ واقعات پڑھے جو جنگیں ہوئی ہیں کسریٰ اور قیصر کے ساتھ ، اصل جو اسلام کے لئے کافی ہوئے اس اعلان کے بعد، وہ وہ ہارڈ کور (Hard Core) مومن تھے ، وہ فدائی جو جاں نثار تھے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور باقی تو پروانے تھے جو ان شمعوں کے گرد، انہیں کی بدولت ثبات قدم بھی دکھاتے تھے، پیچھے ہتے تھے پھر آگے بھی بڑھ جاتے تھے ان کی بدولت۔تو حَسْبُكَ اللهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ یہ اعلان بھی ہے۔یہ بشارت بھی ہے۔یہ تاریخی حقیقت بھی ہے۔یہ ایک وعدہ بھی ہے اگلوں کے لئے۔اگلوں کو اکسانے کے لئے ایک کوڑا بھی ہے پیار کا کوڑ الگاتے ہیں نا ایسا تیز ہو جائے گھوڑا۔تو گھوڑے کو غصے میں تو سوار کوڑ انہیں لگاتا، بڑا پیار کر رہا ہوتا ہے تو اس واسطے جماعت احمدیہ اس آیت کی روشنی میں وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ کی جماعت میں شامل ہونے کی کوشش کریں اور ہر اس چیز کو اپنی زندگی سے نکال کے باہر پھینک دیں جسے ہمارے پیارے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں کیا۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(خطبات ناصر جلد نم صفحه ۲۵۲،۲۵۱) آیت ۷۵ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ 609 أو وا وَ نَصَرُوا أَولَيكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَريم۔اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومن کی علامتوں میں سے ایک علامت تو امنوا عام ایمان کی بیان کی ہے ایمان کے اصل معنی زبان اور دل کے اقرار اور تصدیق کے ہیں نیز جوارح کی تصدیق یعنی عمل بھی اس