انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 197 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 197

۱۹۷ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث دوسرا فضل جو خدا تعالیٰ نے ان دنوں ہم پر اور ہماری قوم پر کیا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللهَ اَلَّفَ بَيْنَهُم ، إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمُ (الانفال: ۶۴) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آپس میں باندھ دیا۔اگر تو جو کچھ زمین میں ہے ان پر خرچ کر دیتا تو بھی ان کے دلوں کو اس طرح باندھ نہیں سکتا تھا اور ان میں اخوت پیارا تحا داور استحکام کی کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں باہمی محبت پیدا کر دی ہے یقینا اللہ تعالیٰ ہی غالب اور حکمت والا ہے۔b خطابات ناصر جلد ۱ صفحه ۲۲ تا ۲۸) آیت ۵۰ اِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرّ هؤُلَاءِ دِينُهُمْ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تم مجھ پر بھروسہ کرو گے تو جو سہارا تمہیں ملے گاوہ حکمت سے خالی نہیں ہوگا وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ تمہارا بھروسہ اس اللہ پر ہو گا جو حکیم ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان بعض دفعہ غلط دعا کرتا ہے اور اسے یہ نظر آتا ہے کہ اس کی وہ دعا قبول نہیں ہوئی لیکن حقیقتاً اس کی وہ دعا قبول ہو چکی ہوتی ہے کیونکہ دعاسنے والا حکیم ہے وہ حکمت کا ملہ کے نتیجہ میں دعا کو سنتا ہے وہ جانتا ہے کہ جو دعا اس شخص نے مانگی تھی وہ آخر فائدہ مند اور سود مند نہیں ہوئی تھی اس لئے اس نے اسے ظاہری شکل میں رڈ کر دیا لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے جس کے لئے دعا کی گئی تھی اس نے کچھ ایسے سامان پیدا کر دیئے جو اس کے لئے زیادہ مفید تھے غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میری طرف آؤ مجھ پر بھروسہ رکھو، اگر تم مجھ پر بھروسہ رکھو گے تو میں تمہیں جو سہارا دوں گا وہ حکیم اللہ کا سہارا ہو گا وہ بے حکمت سہارا نہیں ہوگا، وہ بعد میں بدنتائج پیدا کرنے والا نہیں ہوگا وہ عارضی خوشیوں کے بعد دکھوں میں مبتلا کرنے والا نہیں ہوگا۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۸۶،۳۸۵) الله لا إله إلا هُوَ وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ خدا ایک ہی ہے جس کی پرستش کرنی چاہیئے۔وہ ایک ہی حقیقی معبود اور مقصود اور محبوب ہے ہمارا۔اور جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے