انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 198 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 198

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۹۸ سورة الانفال لئے ضروری ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے وہ خدائے واحد و یگانہ پر صرف خدائے واحد و یگانہ پر تو گل کریں اور غیروں کی طرف نگاہ نہ اٹھائیں۔دوسری حکمت یہاں یہ بیان ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ پر اس لئے تو گل کرو کہ کمزور نہیں ہے وہ۔جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ وہ غالب ہے ، طاقت والا ہے کوئی شخص اس کا ہاتھ پکڑ نہیں سکتا۔اگر تم پر رحم کرنا چاہے دنیا کی کوئی طاقت تمہیں اس کے رحم سے محروم نہیں کر سکتی۔اگر تم اسے ناراض کر دو تو کوئی طاقت اس کی ناراضگی سے تمہیں بچا نہیں سکتی۔عزی؟ تو اسی پر توکل کرنا چاہیئے نا، جو بنیادی طور پر ہر قسم کی طاقت کا سر چشمہ ہے اور کوئی غیر اس کے راستے میں روک نہیں اور اس پر توکل کرو کیونکہ وہ حکیم ہے ، حکمت والا ہے۔انسان بعض دفعہ ایک چھوٹے بچے کی طرح جو آگ کا مطالبہ کیا اس نے ماں سے اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی بات مانگتا ہے جو اس کے علم میں ہے کہ اسے نقصان دینے والی ہے یا ایسی بات کی خواہش رکھتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کسی اور کے متعلق خواہش ہے کہ وہ جو اور ہے وہ اس کے حق میں نہیں ہے جیسے کشتی کا تختہ توڑ دینا۔قرآن کریم نے وہ مثال بڑی اچھی ایک دی ہے ہمارے لئے۔تو خواہش بظاہر نیک لیکن جو کامل علم رکھنے والی ہستی ہے اس کے نزدیک وہ درست نہیں۔اس واسطے اس طرح نہیں دے گا کہ بچے نے سانپ مانگا اور سوٹی سے اس کی طرف سانپ پھینک دیا ماں نے۔بلکہ وہ حکیم ہے وہ اپنی حکمت کاملہ سے تمہاری دعاؤں کو سنے گا اور اپنے پیار کا اظہار کرے گا۔خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۶۵، ۲۶۶) آیت ۶۴۶۳ وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللهُ هُوَ b الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَ أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ ط مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا اَلَفتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس نے اپنی خاص قدرت سے مسلمانوں کے دلوں کو مضبوطی کے ساتھ آپس میں باندھ دیا ہے اور اس رنگ میں باندھا ہے کہ اگر زمین کی ساری دولت اور زمین کے سارے اموال اس غرض کے لئے خرچ کر دئے جائیں تب بھی اس کے نتیجہ میں