انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 194 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 194

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۹۴ سورة الانفال وقت ایک مضمون کو بطور مثال آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی دو آیتوں میں بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ورود ط اذْ يُرِيكَهُمُ اللهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلًا وَ لَوْ اَرْكَهُمْ كَثِيرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَ لكِنَّ اللهَ سَلَّمَ ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًا وَ يُقتلكم في أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُولاً وَ إِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ - اگر چه ان آیات میں ایک مخصوص جنگ کی طرف اشارہ ہے لیکن قرآن کریم میں جو واقعات بیان فرمائے گئے ہیں۔ان میں بعض اصول بیان کئے گئے ہیں جو آئندہ آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہیں لہذا ان آیات میں گوا ایک مخصوص جنگ کی طرف اشارہ ہے لیکن جو اصول ان میں بیان کیا گیا ہے وہ دائمی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تیری خواب میں تجھے ان کافروں کو کم کر کے دکھایا تھا۔تا کہ مومن جب یہ خواب سنیں تو اس کی تعبیر ٹن کر خوش ہوں۔اگر خواب میں دشمن تھوڑا نظر آئے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شکست کھا جائے گا۔چنانچہ بتایا اگر تجھے وہ کفار بڑی تعداد میں دکھائے جاتے تو تم ضرور کمزوری دکھاتے اور کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس خواب میں انذار کیا ہے کہ ہمیں شکست ہوگی اور اس معاملہ میں یعنی لڑائی کے بارہ میں آپس میں جھگڑتے کہ لڑائی کی جائے یا نہ لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو محفوظ رکھا وہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے اور یاد کرو جب کہ وہ ان کفار کو تمہاری نظر میں لڑائی کے وقت کمزور دکھا تا تھا اور قبل از جنگ تم کو ان کی نظر میں کمزور اور قلیل التعداد دکھاتا تھا تا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پورا کرے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی سب باتیں لوٹائی جائیں گی۔اس طرح فرما يا قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ أُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأَى الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيَّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ (ال عمران: ۱۴) یعنی ان دو گروہوں میں جو ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے تمہارے لئے یقیناً ایک نشان تھا ان میں سے ایک گروہ تو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جنگ کرتا تھا اور دوسرا منکر تھا وہ یعنی مسلمان ان کا فروں کو آنکھوں سے اصل تعداد سے دو چند نظر آرہے تھے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی مدد سے قوت بخشتا ہے اس بات میں آنکھوں والوں کے لئے یقیناً ایک نصیحت ہے کہ کبھی آنکھیں باذن اللہ دھوکہ کھاتی