انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 193

تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۱۹۳ سورة الانفال اور مسلمانوں کی تائید میں اترے اس کے نتیجہ میں بھارت کو ذلت آمیز شکست دیکھنی پڑی۔جس کی مثال دنیا میں نہیں مل سکتی۔بھارت اور پاکستان کا فوجی لحاظ سے کوئی باہم مقابلہ تھا ہی نہیں۔آج کل جنگی نقطۂ نگاہ سے ہوائی جہازوں کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور بھارت کے ہوائی جہاز ہم سے چھ گنا زیادہ تھے اور پھر وہ ہمارے جہازوں سے اچھے تھے۔تیز رفتار تھے اور ان کے پیچھے بڑی ٹریننگ تھی لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ بِإِذْنِ اللَّهِ (البقرة :۲۵۰) کہ میں یہ اذن آسمان سے نازل کرتا ہوں کہ یہ تھوڑی تعداد والے جہاز بڑی تعداد والے جہازوں پر غالب آئیں گے اور یہ ایک حقیقت ہے ایک واقعہ ہے جسے ہم نے دیکھا اور خود مشاہدہ کیا حالانکہ یہ ایک ایسی بات ہے جسے بظاہر انسانی عقل تسلیم نہیں کرتی لیکن جو واقعہ ہمارے آنکھوں کے سامنے ہوا۔اس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔پاکستان کی فضائیہ کے پاس جنگی جہاز بڑی کم تعداد میں تھے پھر بھی انہوں نے ایک ایسی حکومت سے مقابلہ کیا جس کے پاس ان سے چھ گنا زیادہ جنگی جہاز تھے انہوں نے اپنی تعداد کے برابر یا اس کے کچھ زیادہ دشمن کے جہازوں کو تباہ کر دیا اور ہمارے صرف بارہ ہوائی جہاز دشمن کے حملہ سے تباہ ہوئے۔ہمارے ایک ہوا باز نے ایک وقت میں دشمن کے پانچ جہاز مار گرائے۔جب اخباری نمائندہ اس کے پاس انٹرویو کے لئے آیا تو اس نے کہا میرا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مجھے تو صرف اتنا علم ہے کہ ایک وقت میں بھارت کے پانچ جہاز میرے سامنے زاویہ بنا کرلڑے میں بھی ان کے پیچھے اسی زاویہ میں مڑ گیا پھر یکدم میرے سامنے اندھیرا آ گیا میں نے اپنے جہاز کا ایک خاص بٹن دبا دیا اور کچھ دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ان میں سے چار جہاز نیچے آرہے تھے اس نے یہ بھی کہا مجھے اپنے کارنامہ پر نہ کوئی فخر ہے اور نہ میں اسے اپنی ذات سے منسوب کرتا ہوں یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اس نے اس وقت فرمایا۔یہی حال میدانی محاذ کا تھا۔ایک محاذ پر ہمار ا صرف ایک بریگیڈ دشمن کی تین ڈویژن فوج کا مقابلہ چار دن تک کرتا رہا دشمن کی فوج نے ان چار دنوں میں اس پر چھ یا آٹھ حملے کئے اور ہر دفعہ خدا تعالیٰ نے اس کے حملے کو ایسا ثابت کیا جیسے کوئی دیوانہ پتھر کی دیوار پر سر مارتا ہے اور واپس ہٹ جاتا ہے قرآن کریم نے اس قسم کے مسائل پر بہت کچھ فرمایا ہے۔میں اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا میں اس