انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 188 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 188

۱۸۸ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ہے قرآن کریم نے ہمیں دیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہم نے ایک ایسی تعلیم دی ہے جس کو فرقان کہا جا سکتا ہے اگر تم اس تعلیم پر عمل کرو گے تو تم ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے جو اپنے غیر سے امتیاز رکھتے ہیں تمہاری ممتاز حیثیت ہوگی خدا کی نگاہ میں بھی اور انسان کی نگاہ میں بھی اپنوں کی نگاہ میں بھی اور غیروں کی نگاہ میں بھی تمہارا ظاہر اور باطن نور ہی نور ہو جائے گا اور یہ نور ہی ہے جو تمہیں تمہارے غیر سے ممتاز کرے گا۔19199999 نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ (التحريم : ٩) کے ایک معنی ہم یہ بھی کر سکتے ہیں کہ چونکہ اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملنا ہے اس لئے اس نور کی وجہ سے جو قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے کے نتیجہ میں تم حاصل کرو گے ایک مسلسل ترقی کے دروازے تم پر کھلتے چلے جائیں گے اور یہ نور تمہارے اعمال نامہ میں بھی لکھا جائے گا، وہ نور بڑھتا جائے گا، تم دیکھو گے کہ ایک یہ نورانی کام کیا ہے ایک یہ نورانی کام کیا ہے ایک یہ نورانی کام کیا ہے گویا ایک مثالی رنگ میں ہمیں بتایا ہے کہ نہ صرف تم اس دنیا میں اس نور کی اتباع کرتے ہوئے جو تمہارے آگے آگے پیدا کیا جائے گا تم آگے ہی آگے روحانی ترقیات کرتے جاؤ گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تمہارا اعمال نامہ بھی چل رہا ہے اس میں بھی لکھا جارہا ہے مطلب یہ کہ صرف اس دنیا میں ہی تمہیں اس کے مطابق جزا نہیں ملے گی ، اس دنیا میں ہی تم اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی محبت کے جلوے نہیں دیکھو گے بلکہ اُس دنیا میں بھی اپنے اس روحانی ارتقاء کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ خدا کی محبت کے جلووں کے حقدار قرار دیئے جاؤ گے، تمہارے اعمال نامہ میں یہ چیزیں ساتھ ہی ساتھ لکھی جائیں گی۔قرآن کریم نے ایک فرقان یعنی امتیازی مقام مسلمان کو لَيْلَةُ الْقَدْرِ میں دیا ہے اور اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں اس کو تلاش کر وسارے بزرگ اس کے متعلق کہتے آئے ہیں ہماری جماعت کے خلفاء بھی جماعت کو غلط خیالات سے بچانے کے لئے اس کے متعلق بار بار توجہ دلاتے رہے ہیں میں بھی آج دوستوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رمضان کے آخری عشرہ میں بعض ایسی گھڑیاں ہیں کہ سارا سال انسان جو بھی گناہ کرتا رہے ان میں ان کی معافی مل جاتی ہے ایک چور مثلاً یہ سمجھے گا کہ سارا سال چوری کرو، لوگوں کو لوٹو ، حرام کھاؤ ، بس اس گھڑی میں جا کر معافی مانگ لو جمعتہ الوداع میں دعا کر لو