انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 183
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۸۳ سورة الانفال صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور حقانیت کو تسلیم کرنے والے ہیں اور اس پر پختہ ایمان رکھنے والے ہیں۔ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا تمہارے ساتھ یہ سلوک ہوگا کہ وہ تمہیں فرقان عطا کرے گا اِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلُ لَكُمْ فُرقانا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی تقویٰ پر قائم ہونا اور تقویٰ کی راہوں پر چلنا اور تقویٰ کے نور میں لپٹ کر اپنی زندگی کو گزارنا یہ ایک امتیازی اور ایک ممتاز زندگی ہے۔اگر تم خدا تعالیٰ کی خاطر دنیا کو چھوڑ کر اس کی رضا کی جستجو میں ایک ممتاز زندگی کو اختیار کرو گے تو تمہیں خوشخبری ہو کہ تمہارے مولیٰ کا تمہارے ساتھ سلوک بھی بڑا ممتاز ہو گا اور اللہ تعالیٰ بڑے امتیاز کے سامان تمہارے لئے پیدا کرے گا تم انسان ہو گے لیکن دوسرے انسانوں سے ممتاز ہو گے۔خدا تعالیٰ ہزاروں راہیں تمہارے امتیاز کے اظہار کے لئے دنیا پر کھولے گا۔وہ دنیا کو یہ بتائے گا کہ یہ میرا بندہ ہے۔اس نے میری خاطر دنیا کو چھوڑ دیا ہے۔اور یہ ہر قسم کی تکلیف اور ہر قسم کی ایذارسانی میرے لئے بشاشت کے ساتھ قبول کرنے والا ہے، ساری دنیا اسے ذلیل کرنے کے لئے تیار ہو جائے ، ساری دنیا اسے رُسوا کرنے کے درپے ہو جائے ، ساری دنیا اسے ہلاک کرنے پر تلی ہوئی ہو تب بھی یہ دنیا کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ جب میری آنکھ میں پیار دیکھتا ہے تو ساری دنیا کے دُکھڑے بھول جاتا ہے۔جب اسے میری رضا کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے تو دنیا کی کوئی تکلیف اس کے لئے تکلیف نہیں رہتی۔یہ میرا بندہ ہے اس نے میرے لئے ایک امتیازی زندگی کو اختیار کیا ہے۔میں بھی اس کے ساتھ ایک جدا گانہ سلوک اختیار کروں گا اور اس کے امتیاز کے بڑے سامان پیدا کروں گا۔يَجْعَلُ لكُم فُرْقَانًا کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ تقویٰ کی راہوں پر گامزن ہونے والوں کو میں ایک نور عطا کروں گا اور انہیں اس نور کے ذریعہ یہ توفیق دوں گا کہ وہ حق اور باطل میں فرق کرنے لگیں۔سچی بات دنیا پر مشتبہ ہو تو ہولیکن میرے ان بندوں کے لئے حق و باطل سچی اور جھوٹی بات میں اتنا فرق ہو گا کہ کبھی بھی انہیں کوئی دھوکہ نہیں لگے گا۔تقویٰ کے نتیجہ میں ان کے لئے ایک نور آسمان سے نازل ہوگا وہ نور ان کے آگے آگے چلے گا اور روشنی اور اندھیرے میں فرق کرتا چلا جائے گا، ان کے عمل بھی نور بن جائیں گے، ان کے اقوال بھی نور بن جائیں گے، ان کے خیالات بھی نور بن جائیں گے، ان کی زندگی سراپا نور بن جائے گی کیونکہ انہوں نے میرے لئے تقویٰ کی