انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 180
۱۸۰ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دھڑکا۔شاید خدا کے خوف سے وہ دل نہ دھڑکتے ہوں لیکن انسان کے خوف سے تو ضرور دھڑکتے ہیں۔اندر کی ضمیر ان کو جھنجھوڑتی ہے کہ تم نے کیا کیا۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جو حقیقی کامیابی ہے اس میں ایک خیانت کرنے والا کامیاب نہیں ہوسکتا۔حقیقی کامیابی اسے مل نہیں سکتی اور وہ نا کام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔عزت کے حقوق ہیں۔عزت کے حقوق میں جذبات کا خیال رکھنا بھی آجاتا ہے۔یہ نہیں کہا کہ مسلمان کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔یہ کہا کہ شرک ہے تو سب سے بڑا ظلم اور گناہ لیکن ایک مشرک کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں پہنچے گی تیری زبان سے۔لا تسبوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ (الانعام (۱۰۹) یہ نہیں کہا کہ اگر مزدور مسلمان ہے تو اجرت کے حقوق اسے ادا کر ، اگر غیر مسلم ہے تو نہ کر۔یہ کہا کہ جس سے تو اجرت لیتا ہے وہ مسلم ہے یا غیر مسلم، مومن ہے یا کافر، موحد ہے یا مشرک، جو بھی اس کا عقیدہ ہے جو بھی اس کے خیالات ہیں، جتنا اس نے کام کیا وہ اس کا حق بنتا ہے وہ امانت ہے تیرے پاس، اس کا حق ادا کر ، اس کی اُجرت پوری دے اور وقت پر دے۔یہ نہیں کہا کہ اہلیت کے لحاظ سے جو حقوق قائم ہوتے ہیں وہ مسلمانوں کے ادا کرو اور جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے خدا تعالیٰ پر یہ الزام لگاؤ کہ اس نے ان کو وہ اہلیت کیوں عطا کی اور غلطی کی خدا نے اور ہم اس کی اصلاح کرنے لگے ہیں۔یہ کہا جس کو خدا نے اپنے فضلوں سے، اپنی ربوبیت کے نتیجہ میں ، اپنی رحمانیت کے جلووں کے ذریعہ (اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمانیت تو مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کر رہی اہلیت پیدا کی ہے تم نے اس اہلیت کے حقوق کو ادا کرنا ہے اور اہل کو ان کی امانتیں دینی ہیں۔خیانت کرنے والا مسلمان بھی ہوسکتا ہے اور غیر مسلم بھی۔قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ اگر خیانت کرنے والا غیر مسلم ہے تو اس کی طرف داری نہ کر اور اگر مسلمان ہے تو اس کی طرف داری کر۔یہ کہا ہے کہ خیانت کرنے والا مسلمان ہے یا غیر مسلم ہے اس کی تم نے طرف داری نہیں کرنی۔خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ خیانت کرنے والے کو بھی اپنے پیار سے محروم کروں گا۔یہ اعلان نہیں کیا کہ خیانت کرنے والا اگر غیر مسلم ہے تو میں اپنے پیار سے محروم کروں گا اگر مسلمان ہے تو پھر میں اُسے اپنے پیار سے محروم نہیں کروں گا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو خیانت کرنے والا ہے وہ اپنی تدبیر اور کوشش حقیقی اور سچی کامیابی حاصل نہیں کرے گا۔یہ نہیں کہا کہ اگر وہ کا فر ہے تو حقیقی اور سچی کامیابی حاصل نہیں کرے گا۔اگر وہ مومن ہے تو اسے معاف کر دیا جائے