انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 179
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۱۷۹ سورة الانفال رہتی ہیں بعض دفعہ یا اجرت کے بعض حصے سال میں ایک یا دو دفعہ مزدور کو بھی اس آج کل کی اقتصادی دنیا میں بونس کی شکل میں ملتے ہیں۔جب تک ان کو نہیں ملتے وہ بطور امانت کے پڑے ہوئے اس لمیٹڈ کمپنی یا کسی اور سرمایہ کاری کے یونٹ میں۔پھر اہلیت کے حقوق ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہر فرد واحد کو، مرد ہو یا عورت بہت سی اہلیتیں دے کر، استعداد میں عطا کر کے، قو تیں دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ہر شخص کو اس کی اہلیت کے مطابق ملنا چاہیئے۔یہ اس کی امانت ہے۔قرآن کریم نے دوسری جگہ کہا ہے کہ جو اہل ہیں اپنی اہلیت کے نتیجہ میں اہل بن گئے وہ تم ان کی امانت ان کو دو۔چوتھے یہ فرمایا کہ جو خیانت کرنے والے ہیں ان کی طرفداری نہ کرو۔اتنا فساد پیدا ہوا ہے دنیا میں خدا تعالیٰ کے اس حکم کو نہ مان کر۔خیانت کرنے والوں کی پناہ بن کر ، ان کے وکیل بن کر، ان کی طرفداری کر کے کہ اس نقصان کا اندازہ بھی انسانی عقل نہیں لگا سکتی اور یہ ظالمانہ کھیل دنیا کے ہر ملک میں ہی کھیلا جارہا ہے، کسی جگہ تھوڑا کسی جگہ زیادہ۔اگر انسان اس اصول کو مضبوطی سے پکڑ لے کہ چونکہ خیانت نہیں کرنی اس واسطے خیانت کرنے والے کی طرفداری بھی نہیں کرنی تو دنیا کا معاشرہ ایک کروڑ گنا شاید ارب گنا زیادہ حسین ہو جائے آج کے معاشرہ سے لیکن حسن تو انسان کے سامنے اسلامی تعلیم میں پیش کیا گیا لیکن اسے قبول کرنے میں وہ ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔پانچویں ہمیں یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ خائن کو ، خیانت کرنے والے کو اپنے پیار سے محروم کر دیتا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا جو خائن کی، خیانت کرنے والے کی طرفداری کرنے والا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے پیار سے، اس کی محبت سے اس کی نعمتوں سے، اس کی طرف سے آسمانوں سے آنے والی عزت سے محروم کر دیا جاتا ہے اور چونکہ خیانت کرنے والے خدا تعالیٰ کے پیار سے محروم کر دیئے جاتے ہیں، چھٹی بات ہمیں یہ بتائی ان آیات میں کہ جو خیانت کرنے والا ہے وہ اپنی تدبیر اور کوشش میں نا کام ہوتا ہے۔خیانت کرنے والے جس مقصد کے حصول کے لئے خیانت کرتے ہیں حقیقی طور پر اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔مثلاً چور بھی خیانت کرنے والا ہے۔دوسرے گھر میں گھستا اور بغیر حق کے ڈا کہ مارتا ہے دوسرے کے مال پر۔نہ اس کی کوئی عزت، نہ اس کے مال میں کوئی برکت۔کروڑوں کی چوری کرنے والے بھی فقیروں سے بھی گندے کپڑوں کے اندر پھرتے دیکھے گئے۔پھر ہر وقت دل کو