انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 175

۱۷۵ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفہ امسیح الثالث حفاظت کریں گے ایسے کمزور ایمان والے ربوہ میں بھی ہوتے ہیں باہر سے بعض کمزور لوگ آجاتے ہیں اور ر بوہ میں آکر آباد ہو جاتے ہیں ان میں سے بعض کا تو نظارت امور عامہ کو بھی پتہ نہیں لگتا۔بعض دفعہ بعض نئے احمدی اپنے علاقہ سے گھبرا جاتے ہیں یا انہیں یہاں سہولت ہوتی ہے اس لئے وہ یہاں آکر آباد ہو جاتے ہیں۔ان لوگوں کی تربیت کی طرف بھی پوری توجہ دینی چاہیے لیکن اگر یہاں آنے سے قبل ان کی تربیت کچھ اس قسم کی ہو کہ ہمیں یہ خطرہ پیدا ہو کہ ربوہ کے مکینوں کے بچوں پر ان کے بچوں کا برا اثر پڑے گا تو پھر صرف ان کے بچے ہی اپنی جگہ پر واپس نہیں بھیجے جائیں گے بلکہ ہم سارے خاندان کو ہی واپس بھیج دیں گے اور ہمارا یہ فعل بغیر کسی غصہ کے ہوگا کیونکہ ابھی ان کی تربیت نہیں ہوئی لیکن اگر کہیں نفاق اس قسم کا گند پیدا کرے گا تو پھر ہماری طبیعتوں میں غصہ پیدا ہونا تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو میں نے شروع میں پڑھی ہے یہ فرمایا ہے کہ اِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ اِس آیت کریمہ میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ گو میرے بندے بھی تم پر گرفت کریں گے لیکن میرے بندوں کی گرفت میری گرفت کے مقابلہ میں بہت ہلکی ہوگی خواہ وہ کتنی ہی سخت گرفت کیوں نہ کریں میری گرفت بہر حال ان سے زیادہ ہے کیونکہ میں سب طاقتوں والا ہوں اور میر اعقاب بندوں کے عقاب سے بہر حال شدید ہے۔پس یہاں ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے تمہیں بھی اصلاحی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔اس کو دُنیا سزا کہتی ہے لیکن ہم اسے اصلاحی تدابیر کہتے ہیں کیونکہ کسی انسان یا کسی مخلوق سے ہماری دشمنی نہیں سزا کا لفظ بھی ہمیں برا لگتا ہے بہر حال الہی سنت کے مطابق ہمیں بھی اصلاحی تدابیر کرنی پڑیں گی۔اور لفظ عقاب میں بھی یہی بات ہے کہ تم نے جو کام کیا اس کا بدلہ تمہیں مل رہا ہے لیکن اس کی ذمہ داری نہ اللہ کے بندہ پر ہوتی ہے نہ اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو رحمت کے لئے پیدا کیا ہے اور بڑا ہی بدقسمت ہے وہ انسان جو پیدا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے لئے ہوا تھا لیکن حاصل کی ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی خفگی اور ناراضگی اور غصہ اور عقاب اور عذاب اور سزا۔اس آیت سے آگے دوسری آیات میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولا دفتنہ ہیں اور پھر فرمایا ہے کہ اگر تم اس فتنہ سے بچ جاؤ گے تو جو اجر میں تمہیں دوں گا وہ بہت بڑا اجر ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ اس دُنیا میں بھی میرے بندوں کے ذریعہ تمہیں اس کا اجر ملے گا اور اس اجر پر تم خوش