انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 174 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 174

۱۷۴ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اس پندرہ سالہ معصوم بچے کی صحیح تربیت کریں وہ تربیت انہوں نے نہیں کی جس کے نتیجہ میں وہ چور بن گیا۔پس دُنیا کا قانون تو صرف اس بچے کو سزا دے گا مگر اللہ کا قانون اُس دُنیا میں بھی اور اس دُنیا میں بھی صرف اس بچے پر گرفت نہیں کرے گا جس نے چوری کی بلکہ ان پر بھی گرفت کرے گا جن پر اس کی صحیح تربیت کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے اپنی یہ ذمہ داری ادا نہیں کی اگر وہ لوگ اس کی صحیح تربیت کی ذمہ داری کی طرف کما حقہ، متوجہ رہتے تو ان کا بچہ چور نہ بنتا اسی طرح اگر بعض خاندانوں کے بچوں کو گندی گالیاں دینے کی عادت ہے تو صرف ان بچوں پر گرفت نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے ماں باپ اور دوسرے ذمہ دار رشتہ داروں پر بھی گرفت کی جائے گی جن پر یہ فرض تھا کہ اپنے قول فعل اور نمونہ کے ساتھ اُن کی صحیح تربیت کرتے اگر اہل ربوہ میں سے ایک آدھ ایسا نوجوان ہو جو نظامِ سلسلہ کا وہ احترام نہیں کرتا جو ہر احمدی کو کرنا چاہیے ( اور احمدیوں کی بہت بھاری اکثریت یہ احترام کرتی ہے ) تو اس صورت میں اگر اصلاح کی خاطر ربوہ سے باہر بھجوانے کا فیصلہ ہوا تو صرف بچہ کو ہی نہیں بلکہ اس کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی ربوہ سے باہر جانا ہوگا۔۔۔۔۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض ایسے ابتلا ہوتے ہیں کہ صرف ظالم ہی ان کی گرفت میں نہیں آتے بلکہ تمہاری نگاہ جن کو ظالم نہیں سمجھتی وہ بھی اس کی گرفت میں آجاتے ہیں اور آنے چاہئیں اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (بخاری: کتاب النکاح) اس حدیث میں مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِہ کے محض یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ان پر گرفت کرے گا اور ان سے جواب طلب کرے گا کہ تم کیا کرتے ہو بلکہ مَسْئُول عَنْ رَعِيّته کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ دار قرار دیئے گئے ہیں ( مثلاً نظام جماعت اور خلیفۂ وقت ) وہ بھی اللہ تعالیٰ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اور اس کے اس خُلق کو اپنے اندر پیدا کرتے ہوئے جواب طلبی کریں گے ان کے سامنے بھی تم مسئول ہوا اور تم سے جواب طلبی کی جائے گی۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۱۲ تا ۱۵) وہ کمزوری ایمان جو احمدیت میں نئے نئے داخل ہونے کی وجہ سے یا احمدیت میں پیدائش کے نتیجہ میں نظر آتی ہے ہم نے اس کی دو طرح حفاظت کرنی ہے ایک تو ہم ایسے کمزور ایمان والے کو نفاق کے حملہ سے بچا کر اس کی حفاظت کریں گے اور دوسرے آہستہ آہستہ اس کی تربیت کر کے اس کی