انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 173
۱۷۳ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث قدموں پر گر جاتا ہے وہ زندہ کیا جاتا ہے اور روحانی زندگی کے ساتھ کھڑا کیا جاتا ہے اور قائم کیا جاتا ہے تو جو شخص روحانی زندگی کا امیدوار ہو جو اس چیز کا امیدوار ہو کہ روحانی زندگی کے بعد اپنے زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق کو قائم کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ جسے ابدی حیات دی گئی ہے اس کے ساتھ اس کا سچا تعلق قائم ہو جائے اور اس کی سنت کی وہ پیروی کرنے والا ہو۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحہ ۲۶۹،۲۶۸) آیت ۲۶ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ج جو آیت میں نے ابھی پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض عذاب اور ابتلاء اور مصائب اور آفتیں دنیا پر ایسی بھی نازل کی جاتی ہیں کہ ان کی لپیٹ میں صرف ظالم ہی نہیں آتا بلکہ وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جن کا بظاہر اس فلم میں کوئی حصہ نہیں یعنی صرف ظالم کو وہ آفت یا بلا یا عذاب نہیں پہنچتا بلکہ دوسرے بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔اصول تو ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى (الانعام :۱۶۵) کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی لیکن چونکہ یہ دُنیا دار الا بتلا ہے دار الجزا نہیں۔اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اس ابتلا اور عذاب میں وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں گے۔یہ ابتلا اور عذاب ان لوگوں کو بھی پہنچے گا جو ظالم نہیں ہیں اور قرآن کریم کے متعلق یہ اصول یا درکھنا چاہیے کہ اس کی آیات باہم تضاد نہیں رکھتیں۔لہذا ہمیں اس آیت کے ایسے معنی کرنے پڑیں گے جو کسی دوسری آیت سے ٹکراتے نہ ہوں ان کے متضاد نہ ہوں پس یہاں ایک معنی یہ ہوں گے کہ گو ظاہری طور پر وہ لوگ ظلم میں شامل نہیں لیکن باطنی طور پر وہ ظلم میں شامل ہیں اور وہ اس طرح کہ بعض ذمہ داریاں افراد سے تعلق رکھتی ہیں۔وہ انفردی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور بعض ذمہ داریوں کے بہت سے پہلو یا وہ ساری کی ساری اجتماعی رنگ رکھتی ہیں اور جو اجتماعی ذمہ داریاں ہیں اگر وہ گروہ یا وہ خاندان جن کی وہ ذمہ داریاں ہیں بحیثیت مجموعی ان کی طرف متوجہ نہ ہوں اور اس کے نتیجہ میں اس گروہ یا خاندان کے بعض افراد ظالم بن جائیں تو سزا اور عذاب میں سارا خاندان ہی ملوث ہو جائے گا۔دنیا کی نگاہ تو یہ دیکھے گی کہ ایک پندرہ سالہ بچے نے چوری کی مگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ یہ دیکھتی ہے کہ اس کے ماں اور باپ، بہن اور بھائیوں اور خاندان کے دوسرے بڑے رشتہ داروں پر جو یہ فرض تھا کہ وہ