انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 154
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۵۴ سورة الاعراف جا یہ ہے کہ میں اپنی طرف سے کچھ کہنے کے قابل نہیں لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر بات کہنے کے قابل بنا دیا گیا ہوں۔یہ الارقی میں بڑا پیارا اعلان ہوا۔ہمیں حکم ہوا فَا مِنوا اس رسول پر ایمان لا وَالرّسول النّبي ، الرقی پر اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس اللہ پر ایمان لاؤ جس نے الرسول ، النَّبِی الاُمّی کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا اور کھڑا کیا فَا مِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْاقی اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ اعلان کیا اللہ تعالیٰ نے جو ہر چیز کا جاننے والا ہے۔الَّذِي يُؤْمِنُ بِالله یہ الرسول، یہ النبی، یہ الاقی جو ہے یہ کامل ایمان رکھتا ہے۔اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (الاعراف: ۱۴۴) دوسری جگہ کہا۔اللہ تعالیٰ پر، اس کی صفات اور اس کی ذات کی کامل معرفت رکھنے والا۔وحلمتے اور جو وحی نازل ہوئی ہے اس کو جاننے والا اور اس کے مطابق عمل کرنے والا ہے ایمان لا دواتَّبِعُوهُ اور اس کی پیروی کرو تا کہ تم ہدایت پاؤ۔یہ ہے ہمارا عقیدہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۴۳ تا ۲۴۵) اس آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے میں اس کے ایک حصہ کے متعلق دوستوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ مضمون يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ سے شروع ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بہت سے مستقل سلسلہ ہائے انبیاء اور سلسلہ ہائے شرائع قائم کئے گئے تھے۔بہت سی قومیں اس وقت ایسی تھیں جن کا رشتہ اپنی شریعت سے ابھی ٹوٹا نہ تھا۔وہ اپنی حالت اور اپنی سمجھ کے مطابق ان شرائع کی پیروی کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔لیکن بہت سی اقوام ایسی بھی تھیں کہ جن کا رشتہ اپنی شریعت سے ٹوٹ چکا تھا اور اس وقت وہ عملاً اہل کتاب نہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنی ناقص عقل سے بہت سی رسوم جاری کر رکھی تھیں اور بہت سی بدعتوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔یہی ان کا مذہب تھا یہی ان کی شریعت تھی۔ایسی شریعت جس کا کوئی رشتہ آسمان سے قائم نہ تھا لیکن جو ان کے جاہل دلوں کو تسلی دے دیا کرتا تھا۔تو اس آیت کے پہلے حصہ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمُ کا تعلق ان اقوام سے ہے۔جن کا رشتہ اپنی شریعت سے منقطع نہیں تھا۔اور ہر نبی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اپنی اپنی اُمت سے اللہ تعالیٰ کے نام پر عہد بیعت لیا تھا اور وہ ایک پختہ عہد پر قائم تھے۔وہ میثاق اور عہد یہ