انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 153
۱۵۳ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث میں مطہر ہو اور خدا تعالیٰ بندوں کی اصلاح کے لئے اپنی وحی اس پر نازل کر رہا ہو۔تو لیٹی ہیں یعنی کامل وحی کے حامل نبی۔اور جو نتبا جو اخبار، جو وحی آپ پر اُتری وہ اپنے کمال میں انتہا تک پہنچی ہوئی ہے۔اس واسطے آپ نبی نہیں آپ اللہتی ہیں۔اور بڑا پیارا یہ اعلان ہے کہ آپ الاقی ہیں۔قرآن کریم نے کہا۔فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ - توافقی کے معنی وہ ہیں جسے اپنے نفس میں خالی ، کچھ نہیں آتا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کانفس اپنی ذات میں بالکل خالی ہے۔یہ اعلان ہوا ہے اس واسطے جو کہا وہ خدا تعالیٰ کے کہنے پہ کہا۔جو معلم حقیقی ہے اس کے بلائے پر آپ بولے ورنہ خاموشی ہے چونکہ خدا تعالیٰ کے بلائے پہ بولے،اس واسطے جو وحی آپ پر نازل ہوئی النبی کے، اس کے خلاف کوئی بات آپ کے منہ سے نکل ہی نہیں سکتی۔یہ اعلان ہوا ہے الدقي میں کہ جو عظیم وحی اس اللہی کو ملی ، یہ ممکن ہی نہیں تھا (اس کی تفصیل میں اور آگے دوسری آیات سے لے کے آپ کو بتاؤں گا یہ ممکن ہی نہیں تھا ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کہ آپ کوئی ایسی بات کرتے یا آپ کا کوئی ایسا عمل ہوتا جو اس کے خلاف ہوتا۔کیونکہ جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے۔آپ محض ان پڑھ ہیں یعنی اپنی طرف سے آپ کچھ بیان کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے ، قابل ہی نہیں۔اپنی طرف سے کچھ بیان کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے لیکن اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کی حامل وحی کو بیان کرنے کی اہلیت آپ رکھتے ہیں۔جہاں تک اپنے نفس کا تعلق ہے آپ گونگے ہیں کہ لو لیکن جہاں تک خدا تعالیٰ کی وحی کا تعلق ہے آپ جیسا خطیب کوئی نہیں۔آپ جیسا شعلہ بیان کوئی نہیں۔آپ جیسا تفصیل سے بات کرنے والا کوئی نہیں۔آپ جیسا مختلف پہلوؤں کو خدا تعالیٰ کی وحی کے اجاگر کرنے والا کوئی نہیں۔آپ جیسا ہر شخص کی قابلیت کے مطابق بات کرنے والا کوئی نہیں۔اسی واسطے آپ نے کہا کہ ہر ایک کی سمجھ کے مطابق بات کیا کرو۔تو الا دقیق میں یہ اعلان کیا کہ یہ کوئی خطرہ نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ملاوٹ اللہي کے بیان میں ہو جائے گی یعنی اس طرف سے پاک ہے۔ایک تو انا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: ١٠) وہ دوسری طرف سے اس کو پروٹیکٹ (Protect) کیا ہے جہاں تک آپ کی ذات اور خدا تعالیٰ کے کلام کا باہر کا حصہ تھا۔اندرونی طور پر آتی ہیں اور اُقی ہونے پر فخر کرتے ہیں۔یعنی آپ کے فخر کی