انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 152
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۵۲ سورة الاعراف ہے۔زیادہ سے زیادہ ہی ہے۔انسان کا تھوڑا سا عمل ہوتا ہے اور اُسے بہت بڑی جزا مل جاتی ہے۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۴۹۷ تا ۴۹۸) آیت ۱۵۸ ۱۵۹ الَّذِینَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّى الَّذِي ن يَجِدُونَة مَكْتُوبًا عِنْدَهُم فِي التَّوَريةِ وَ الْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بالْمَعْرُوفِ وَيَنْهُهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِم به b الخَبيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَذَرُوهُ وَ نَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي انْزِلَ مَعَةً أُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ، قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم جَمِيعًا بِالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَأُمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِي الأمّي الَّذِى يُؤْمِنُ بِاللهِ وَ كَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الرسول ہیں، النبی ہیں ، الأقمی ہیں۔یہ بنیادی عقیدہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمارا۔الرسول ہیں اس معنی میں کہ جو وحی آپ پر نازل ہوئی آپ نے کامل طور پر اس کی تبلیغ کی اور آگے پہنچایا۔الرسول ہیں، کامل رسول ہیں یعنی جو وحی نازل ہوئی اس کو آگے پہنچانے کے لئے دو رستے ہیں ممکن ، اصولی طور پر۔ایک اقوال سے۔قرآن کریم کی تفسیر کر کے، زبان سے نصیحت کرتے ہوئے ، لوگوں کو یاد دہانی کروا کے اس کو بھی کمال تک پہنچایا۔اور ایک فعل سے اس پر عمل کر کے بتایا۔تو جہاں تک قول اور فعل کا تعلق ہے الرسول ہیں۔کوئی ایسا رسول پہلے نہیں گزرا جس پر اس قدر عظیم ذمہ داری تھی اور اس نے اپنی عظمتوں کے نتیجہ میں جو خدا تعالیٰ نے اسے عطا کیں خدا تعالیٰ کے کلام کی عظمتوں کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب ہوئے ہم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معنی میں الرسول مانتے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ آپ اللہ ہیں۔اللہی اس معنی میں ( نبی کہتے ہیں اس مطہر کو جو خدا تعالیٰ کی نگاہ