انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 8
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ورة المائدة سور دینکم کا تاج لازوال اپنے سر پر رکھتا ہے اور تبیان تكُلّ شَىءٍ (النحل: ٩٠) کے وسیع اور مرضع تخت پر جلوہ افروز ہے۔“ الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد نمبر ۴ صفحه ۱۰۴) قرآن کریم ہی نے اپنے کمال کے متعلق بتایا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم تو اس سے کیا مراد ہے کس قسم کا کمال یا کس قسم کے کمالات اس میں پائے جاتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُل حِينٍ بإِذْنِ رَبّهَا (ابراهیم: ۲۶،۲۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں قرآن کریم کی یہ آیت قرآن کریم کے کمال کے تین پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو قولِ ثابت عطا کرتا ہے یعنی ایسا قول عطا کرتا ہے جو ثابت شدہ ہے اور مدلل ہے اور جس کے متعلق دلائل دیئے گئے ہیں اور انسان کو ثابت قدم رکھتا ہے۔اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ ثبات قدم کے لئے تعلیم کا مدلل ہونا ضروری ہے۔تعلیم اپنی ذات میں ہزار دلائل رکھے اگر وہ ہماری سمجھ میں نہ آئیں، اگر ہم ان کا مطالعہ نہ کریں اور اگر ہماری ان سے واقفیت نہ ہو، اگر ہم ان کا علم نہ رکھیں تو ہم ثابت قدمی نہیں دکھا سکتے اس لئے خدا تعالیٰ نے ثابت قدم رہنے کا طریقہ قرآن کریم کی تعلیم بتایا ہے۔گویا قرآن کریم کے پاک اور مقدس کلام کا کمال ان آیات میں تین باتوں پر موقوف قرار دیا گیا ہے۔اول یہ کہ اس کے اصول ایمانیہ ثابت اور محقق اور فی حد ذاتہ یقین کامل کے درجے پر پہنچے ہوئے ہوں اور اس کی دوسری شق یہ ہے کہ فطرت انسانی اس کو قبول کرتی ہو۔مذہب اور ایمان کے جو اصول ہیں ان کی بنیادی غرض یہ ہے کہ خدائے واحد و یگانہ کے ساتھ انسان کا ایک تعلق قائم ہو جائے اسی لئے کلمہ لا إله إلا الله اصول ایمانیہ کی بنیاد ہے۔چونکہ ایمان کے سارے اصول خدائے واحد و یگانہ کی طرف لے جانے والے ہیں اور توحید باری تعالیٰ فی ذاتہ محقق ہے اور یہ جو کائنات ہے جب ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ ماننا پڑتا ہے اور ہم اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہیں جیسا کہ آج کے سائنسدانوں کا ایک حصہ اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہے کہ اس کائنات کی پیدائش کو محض اتفاق نہیں قرار دیا جاسکتا بلکہ مانا پڑتا ہے کہ کوئی مدبر بالا رادہ ہستی ہے جس نے یہ کائنات تخلیق کی ہے ، اس کا ارادہ اور حکم