انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 150 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 150

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۵۰ سورة الاعراف ہے کہ یہ صداقتیں بڑے گہرے اثر رکھنے والی ہیں اور ان کے بغیر ہم دنیا کو اس پاک اور مقدس نبی ، اس رَحْمَةٌ لِلعلمین کے جھنڈے تلے جمع نہیں کر سکتے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۴۵ تا ۴۸) جو شخص بھی اپنے رب پر ایمان لاتا ہے۔فَلا يَخَافُ بَخْسًا وَ لَا رَهَقًا اس کو نہ بخس کا کوئی خوف رہتا ہے اور نہ رھق کا کوئی خوف رہتا ہے۔بخس کے معنے ہیں ظلم کر کے کسی کو نقصان پہنچانا مگر جو شخص مومن ہوتا ہے اس کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور جس طرح دوسرے مذاہب کا عقیدہ ہے کہ ایک دفعہ جنت میں لے جائے جانے کے بعد پھر جنت سے نکال دیا جائے گا۔شریعت محمدیہ پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے نتیجہ میں وہ جنت نہیں ملتی جس سے انسان نکالا جاتا اور دھتکار دیا جاتا ہے اور اُسے یہ کہا جاتا ہے کہ پھر از سر نو کوشش کرو اگر تم مستحق ٹھہرے تو تمہیں جنت مل جائے گی۔پس اگر عارضی جنت کا عقیدہ درست ہو تو پھر یہ بخشا ہے۔انسانی فطرت یہ کہتی ہے کہ اُس پر ظلم ہو گیا کیونکہ انسان کی طاقتیں محدود تھیں اور اُسے محدود زمانہ دیا گیا اگرتو غیر محدود زمانہ دیا جاتا تو پھر غیر محدود عمل ممکن ہوتے اور غیر محدود جنت ہو جاتی اور آپس میں CLASH ( کلیش ) ہوجاتا کیونکہ دوغیر محدود تھے۔انہوں نے ایک دوسرے سے سر ٹکرا دینے تھے۔جو عقلاً درست نہیں ہے مضمون دقیق ہے مگر جو سمجھنے والے ہیں وہ سمجھ جائیں گے دو غیر محدود ایک دوسرے کا نتیجہ نہیں ہو سکتے کیونکہ نتیجہ انتہاء ہوتا ہے۔غیر محدود ابتلاء اور امتحان کا زمانہ اور غیر محدود جزاء اور جنت۔یہ بات عقل میں نہیں آتی۔پس اگر غیر محدود جنتیں ہیں جن کی انتہاء کوئی نہیں تو عمل محدود ہی ہونے تھے اور جنت غیر محدود ہو گی ، رحمت الہی غیر محدود ہوگی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۔خدا تعالیٰ کی رحمت کے مقابلے میں زمانہ کیا چیز ہے۔یہ تو اس کی ایک پیداوار ہے لیکن اس کی رحمت کی موجیں تو اس کی ہر پیداوار کے اوپر سے گذر رہی ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہر چیز اور ہر مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے۔لیکن ہماری فطرت اور ہماری شریعت ہر دو ہمیں یہی کہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہر چیز کے اوپر حاوی ہے۔اس واسطے کہ اگر ہماری فطرت یہ نہ کہتی تو محدود عمل کی غیر محدود جزاء کی توقع اور امید ہم کیسے رکھتے۔خدا تعالیٰ نے ہماری فطرت کے اندر یہ ڈالا ہے کہ یہ تو ٹھیک ہے تمہیں تھوڑی عمر دی گئی