انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 144 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 144

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۴۴ سورة الاعراف لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات حاضر ہو کہ آپ کس معنی میں اور کن کے لئے رحمت ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی شکل میں جو تعلیم آپ کے ذریعہ انسان کو دی جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ عجیب کتاب نظر آتی ہے جسے ہم قرآنِ عظیم کہتے ہیں یا ہم قرآن کریم کہتے ہیں یا ہم قرآن مجید کہتے ہیں۔ہر بات جس کی انسان کو ضرورت تھی ، جس کے نتیجہ میں انسان نے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا علم حاصل کرنا تھا اور ان سے حصہ لینا تھا، وہ راہیں جن پر چل کر انسان نے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا تھا وہ سب اس عظیم کتاب میں بیان ہو گئی ہیں۔قرآن کریم نے جو یہ کہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ بنا کر بھیجا گیا ہے۔مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ یہ کس معنی میں ہے کیونکہ اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمتوں اور اس کی عظیم صفات کا اس کی کبریائی اور جلال اور عظمت کا عرفان دیا جائے اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں یہ علم ہو کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کس معنی میں رحمت ہو کر آئے۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت اس کی دو صفات کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، ایک اس کی رحمانیت ہے اور دوسرے اس کی رحیمیت ہے۔خدا رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔اس کی رحمان ہونے کی صفت کا ربوبیت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔دنیا کی ہر چیز جس کو پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پرورش کرتا ہے اور ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ وہ انسان کے لئے فائدہ مند بن جائے کیونکہ ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم اور آپ کا وجود بے جان چیزوں کے لئے بھی رحمت ہے۔ایک تو جاندار چیزیں ہیں جن میں چوپائے بھی ہیں، پرندے بھی ہیں ، چرند بھی ہیں اور انسان بھی ہیں اور ایک بے جان چیزیں ہیں مثلاً ستارے ہیں، لیلیکسیز (Galaxies) ہیں، درخت ہیں، پانی ہے، اجناس ہیں وغیرہ وغیرہ بے شمار چیزیں ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم نے بے جان چیزوں کے حقوق کو بھی بیان کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی اس ہدایت کے ذریعہ سے ان حقوق کی حفاظت بھی کی گئی ہے۔پس آپ کی رحمت بھی خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی وسعتوں کے ماتحت ہے۔انسان خدا تعالیٰ کی وسعتوں کو تو نہیں پہنچ سکتا لیکن اپنے کمال کو پہنچا ہوا انسان جتنا کامل بن سکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کمال کو حاصل کیا اور آپ کی لائی ہوئی شریعت نے ہر چیز کا حق بتایا بھی اور اس کی حفاظت بھی کی۔