انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 132
۱۳۲ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام نے جو احکام اوامر ونواہی دیئے ہیں ان میں سے ہر حکم پر جو انسان نے عمل کرنا ہے اس کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔تمام بدیوں سے چھٹکارا اس وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب تقویٰ کی راہوں کو اختیار کیا جائے اور نیکیاں اسی وقت کی جاسکتی ہیں جب تقویٰ انسان کے روحانی وجود کی زینت بنے۔ہر حکم کے ساتھ تقویٰ ضروری ہے۔کوئی حکم جو بُرائی سے روکنے والا ہو یا اچھائی پر ابھارنے والا ہو وہ انسان بجا نہیں لا سکتا جب تک وہ تقویٰ کی راہ کو اختیار نہ کرے۔اسی واسطے جب انسان بظاہر نیکی کر رہا ہو اور بظاہر تقویٰ کا مظاہرہ کر رہا ہو اس وقت بھی اگر حقیقی تقویٰ نہیں ہے تو وہ نیکی نہیں رہتی مثلاً صدقہ ہے، صدقات دینا نیکی کا کام ہے (صدقہ کے مختلف معانی ہیں میں اس وقت ان معانی میں نہیں جاؤں گا) بظاہر یہ نیک کام ہے لیکن اگر اس کے ساتھ تقویٰ نہیں، اگر صدقات بجالانے والا متقی نہیں ، اگر وہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار نہیں کرتا اور تقویٰ کی شرائط کو پورا نہیں کرتا تو صدقات نیکی نہیں رہتے۔لا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَن وَالأذى (البقرة : (۲۶۵) اگر صدقات بھی ہیں اور من اور اڈی بھی ہے تو پھر وہ نیکی نہیں رہیں گے اس لئے تقویٰ ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ ’ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے“ اگر کسی نیکی کی جڑ اور اس کی اصل اور اس کی بنیاد تقویٰ نہیں تو وہ نیکی نہیں ہے۔پس خدا تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں ہمیں سینکڑوں احکام دیئے ہیں کہ یہ نہ کرو یہ کرو حقیقی متقی وہ ہے جو ان تمام احکام کو تقویٰ کے اصول پر بجالا رہا ہو، نہ کرنے والے احکام کو بھی اور کرنے والے احکام کو بھی۔جو شخص ایسا نہیں وہ کامل متقی نہیں اور اگر کوئی شخص دو ایک باتیں ایسی کرنے والا ہو جو بظاہر نیکی ہوں اور باقی نہیں تو وہ متقی نہیں کہلائے گا۔۔۔۔۔پس جو لوگ احکام الہی یا جو انسانی فطرت کے تقاضے ہیں۔ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ان میں سے بعض کو پورا کریں اور بعض کو نہ کریں تو وہ حقیقی متقی نہیں۔حقیقی متقی بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے تمام احکام کو تقویٰ کے اصول پر بجالا رہا ہو یا ہماری دنیوی زندگی میں جو ایک جد و جہد، ایک مجاہدہ جاری ہے اگر وہ خلوص نیت کے ساتھ اور انتہائی کوشش کے ساتھ تقویٰ کے میدانوں میں آگے بڑھنے