انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 131
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة الاعراف لئے ہی ان کا استعمال ہونا چاہیے اور جو قوانین ان کو گورن (Govern) کرنے والے ہیں ان سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۱۸۵ تا ۱۹۱) آیت ٣٦ يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقْضُونَ عَلَيْكُمْ ايتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اسی طرح فرمایا کہ تم خدا کے محتاج ہو خدا تمہارا محتاج نہیں ہے۔اَنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (فاطر:۱۲) انسان کا شیطان اس پر دوطرفہ حملہ کرتا ہے۔اس کا ایک حملہ تو اس رنگ میں ہوتا ہے کہ وہ انسان کو جھوٹے وعدے دے کر بدیوں اور برائیوں اور گناہوں کی طرف بلاتا ہے اور دوسرا حملہ اس کا یہ ہے کہ وہ نیکیوں سے روکتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو خدا کے بندوں پر مسدود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ ان ہر دو حملوں سے حفاظت کے لئے اور خود کو بچانے کے لئے انسان خدا تعالیٰ کی پناہ ڈھونڈے۔یہ بھی کہ شیطان کا یہ وار کہ وہ انسان کو گناہ پر ، بدی پر، دوسروں کو دکھ پہنچانے پر جوا کساتا ہے خدا تعالیٰ مدد کو آئے اور ڈھال بنے اور شیطان کے اس قسم کے حملوں میں شیطان ناکام ہواور خدا تعالیٰ کی ڈھال اس کے نیک بندے کو شیطانی حملوں سے محفوظ کر دے اور پھر دوسری طرف سے شیطان یہ حملہ کرتا ہے کہ انسان نیکیاں نہ کرے یا نیکیوں میں نستی دکھائے یعنی جتنی نیکی کر سکتا ہے اتنی نہ کرے اور تَخَلَّفُوا بِأَخْلَاقِ اللہ کے ماتحت اچھے اخلاق اس میں پیدا نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اس پر نہ چڑھے ہر انسان کے شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے۔چنانچہ اس محاذ پر خدا تعالیٰ کو ڈھال بنانے کا یہ مطلب ہے کہ اے خدا! تیری راہ میں قدم بڑھانے کے راستے میں شیطان جو روک ڈالے، نیکیوں سے روکے، حسنِ سلوک سے رو کے انسان تیری رحمت اور رضا کے حصول کے لئے تیرے ساتھ صدق وصفا کا جو تعلق پیدا کرتا ہے اس کے رستے میں روک بنے ، تیرے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا جو حکم دیا گیا ہے اس کے رستے میں وہ روک بنے غرضیکہ ہر قسم کی نیکیوں کی راہوں میں جو شیطان روک بنے ہمیں اس کے اس قسم کے حملوں سے بچا اور خود ہمارے لئے ڈھال بن جا۔تقویٰ کے یہ دونوں معنی ہیں۔