انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 130
۱۳۰ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث تذلل سے جھکنا چاہو اور میری اطاعت اور میری عبادت کرنا چاہو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے تم اپنے دلوں کو پاکیزہ کرو اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے مجھ تک پہنچنے کی کوشش کر و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ضمیمہ براہین احمدیہ (حصہ) پنجم میں فرماتے ہیں ”انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقوی کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے تقویٰ کی باریک راہیں، روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضا ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیراور دوسرے اعضاء ہیں باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں، ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لبَاسُ التَّقوى قرآن شریف کا لفظ ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے“۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۲۱۰،۲۰۹) ( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۷۱،۷۰) بنیادی طور پر قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ہر چیز کا یہ حق ہے کہ جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے اس کا استعمال نہ کیا جائے۔ہر مخلوق کا یہ حق اسلام نے قائم کیا ہے اور اسلامی تعلیم نے اس کی حفاظت کی ہے۔مثلاً فرما یالا تسرفوا (الاعراف:۳۲) اسراف نہ کرو۔اسراف کے معنی ہی خدا تعالیٰ کے قانون کی حدود سے تجاوز کرنا ہیں۔پس اس کے یہی معنی بنتے ہیں کہ ہر چیز کے متعلق خدا تعالیٰ نے کچھ قانون بنائے ہیں ان کی پیدائش کی کوئی غرض بیان کی ہے۔اس کے خلاف تم نے اس کو استعمال نہیں کرنا۔انسان جب بہکتا ہے اور بسا اوقات بہکتا اس وقت زیادہ ہے جب وہ علم کے میدان میں اور تحقیق کے میدان میں کافی آگے نکل چکا ہو تو وہ دنیا کے لئے عذاب اور ہلاکت کے سامان پیدا کر دیتا ہے جیسا کہ ایٹم کی طاقت کا غلط استعمال ہمیں بتا رہا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اشیاء کے لئے بھی رحمت ہیں کیونکہ آپ ایک ایسی تعلیم لے کر آئے جس نے انسان کو یہ بتایا کہ دیکھو اشیاء خاص غرض کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور ان اغراض کے