انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 5
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة بناد یا یعنی اس بات کی علامت بنا دیا کہ تم مسلمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہو یا حکم عدولی کرتے ہوئے اس کی اطاعت سے باہر نکلتے ہو اور اس کے غضب کے دائرہ کے اندر داخل ہوتے ہو۔آپ نے فرمایا جس طرح یہ دن مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اس کے مال اور عزت و ناموس کو مقدس قرار دیا ہے۔شعائر اللہ بنادیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال اور کسی کی عزت پر حملہ کرنا ایسا ہی ناجائز ہے جیسا کہ اس مہینے اور اس علاقے اور اس دن کی ہتک کرنا پھر آپ نے فرمایا یہ حکم آج کے لئے نہیں ، کل کے لئے نہیں بلکہ اس دن تک کے لئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو پھر فرمایا یہ باتیں جو میں آج تم سے کہتا ہوں ان کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤ کیونکہ ممکن ہے کہ جولوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں ان کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے آج نہیں سن رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اور آپ سے پہلے جو چھوٹے چھوٹے اولیا ء امت گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنے اپنے وقت میں بہت ساری چیزوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکام کی روشنی میں یہ اعلان کیا کہ یہ شعائر اللہ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی حرمت اور عزت قائم کی ہے اس اصول کے مطابق مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو میرے فضل کی تلاش میں ہے وہ میری عزت اور میری حرمت کے دائرہ کے اندر ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسہ سالانہ کوشعائر اللہ میں شامل کیا ہے کیونکہ ایک تو یہ وہ زمانہ ہے جس میں ہم صرف اللہ اور رسول کی باتیں سننے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔یہاں اس اجتماع میں ہماری اپنی کوئی ذاتی غرض اور مقصد نہیں ہے پھر لوگ ہر قسم کی تکالیف اٹھا کر محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے حصول کے لئے مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے یہاں آ رہے ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی تلاش میں سفر کر رہے ہوتے ہیں اور اسی کی طرف پہلی آیت جو میں نے پڑھی تھی اشارہ کر رہی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قابل عظمت قرار دیا ہے پھر انسانوں میں سے بعض انسان ایسے ہیں کہ جن کی عزت اور عظمت کو حق طور پر خدا تعالیٰ قائم کرتا ہے۔سب سے زیادہ معزز اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عرب توں کی تقسیم کا سرچشمہ اور منبع تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے آپ کی اُمت میں آپ ہی کے منشاء کے مطابق اور بھی ایسے وجود پیدا ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے