انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 121 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 121

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۲۱ سورة الاعراف رکھیں تمہارے اندر روحانی قابلیتیں رکھیں اور ان قابلیتوں کی صحیح نشو ونما کے لئے میں نے ہر موزوں چیز پیدا کر دی اگر تم چاہو تو تم اس سے فائدہ اُٹھا کر صحیح راہوں پر چل کر اپنی انفرادیت کی نشو ونما کو اس کے کمال تک پہنچا سکتے ہو کیونکہ میں نے ہر چیز کو موزوں شکل میں پیدا کیا ہے۔ایک موٹی مثال اس موزونیت کی افیون ہے۔انسان کی بیماریوں کو دُور کرنے کے بھی اس میں اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کئے ہیں۔چنانچہ طب یونانی میں افیون کو بڑی کثرت سے دواؤں میں استعمال کیا گیا ہے۔ایک عام اندازہ کے مطابق ۷۵ یا ۸۰ فیصد نسخوں میں افیون ضرور شامل ہوتی ہے لیکن وہ ہر دوائی کا جزو بنتی ہے اپنی قدرتی اور طبعی اور موزوں شکل میں۔اسی لئے طب یونانی کی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا کہ طب یونانی کے نسخوں کے استعمال کے نتیجہ میں کسی فرد واحد کو افیون کھانے کی عادت پڑ گئی ہو کیونکہ ہر ایسے نسخہ میں خدا کے قانون کی روشنی میں تجربہ کر کے اس کی مقدار موزوں اندازے کے مطابق رکھی جاتی ہے لیکن اس کا غلط استعمال بھی ہونے لگا۔چنانچہ اس کے بعض اجزا کے اگر کسی شخص کو دو ٹیکے کر دیئے جائیں تو اس کو افیون کی عادت پڑ جاتی ہے اور اُدھر وہ دواؤں کی شکل میں موزوں مقدار میں ساری عمر کھا تا رہے تو پھر بھی اس کی عادت نہیں پڑتی۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی نسبت سے یعنی انفرادی طور پر جس جس قسم کے توازن کی ضرورت تھی اس اس شکل میں اُسے پیدا کیا۔پھر ایک نوعی توازن قائم کیا جو مثلاً اجناس کے اندر کارفرما ہے۔اسی طرح تمام پھلوں اور کھانے پینے کی اشیاء میں توازن قائم ہے اور یہ زمین ہے جس میں یہ موزونیت یہ میزان کا عمل دخل نظر آتا ہے۔قرآن کریم اسے کہے گا کہ انسان کے قومی اور اس کی قابلیتوں کی صحیح اور بہترین نشوو نما کے لئے جس غذا کی جس شکل میں جس موزوں حالت میں اور جس متوازن صورت میں ضرورت تھی یہ اس زمین میں پائی جاتی ہے۔غرض جس مجموعہ آثار الصفات میں موزوں غذا پائی جاتی ہے وہ زمین ٹھہری۔والسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِل وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدع (الطارق : ۱۲، ۱۳) یعنی زمین وہ ہے جو صدع ہونے کے اثر کو قبول کرنے کی اہلیت رکھتی ہے یعنی زمین وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے غیر محدود جلوؤں کے ساتھ ہمیشہ متوجہ رہتا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ زمین آثار صفاتِ باری تعالیٰ کے مخصوص مجموعے کا نام ہے اس