انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 120
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة الاعراف ایک چیز کو ایک اندازے کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔پس غذا کے تمام اجزا متوازن اور مناسب ہونے چاہئیں اور پھر غذا کے ہضم کا توازن بھی برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ ہر چیز میں توازن کا اصول کارفرما ہے اس لئے جتنی غذا استعمال کی جائے اس کے ہضم کرنے کا بھی انتظام ہونا چاہیے کیونکہ قدرت نے ہر چیز میں توازن قائم کر رکھا ہے۔شیر کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ دو اڑھائی بلکہ تین من تک شکار کا گوشت کھا لیتا ہے لیکن پھر وہ آرام نہیں کرتا بلکہ گوشت کو ہضم کرنے کیلئے جنگلوں میں کم و بیش پچاس میل کا چکر کاٹتا ہے پھر وہ سو جاتا ہے اور جب اُٹھتا ہے تو اسی بچے کھچے گوشت کا ناشتہ کرتا ہے کیونکہ اس کی بڑی خوراک یہی گوشت ہے پس شیر کو اللہ تعالیٰ نے آزادی اور اختیار نہیں دیا بلکہ اپنے حکم کا پابند بنایا۔خدا تعالیٰ نے اس کو فر ما یا کئی من گوشت تجھے کھانے کو دیتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ میں نے میزان کا جو اصول قائم کیا ہے وہ برقرار رہے اس لئے اس کو ہضم کرنے کے لئے تجھے کم و بیش پچاس میل کی دوڑ لگانی پڑے گی اور اگر ہم بھی اسی قسم کی دوڑ لگا ئیں تو بے شک شیر جتنا گوشت تو نہ کھا سکیں لیکن ہماری خوراک ضرور بڑھ جائے۔ایک بنیا جو اپنے سامنے بہی کھاتے کھول کر بیٹھا رہتا ہے اور ساتھ خوب مٹھائی (ہاں یہ بھی میزان خوراک میں ایک بڑا جزو ہے ) کھاتا رہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس پر چربی چڑھ جاتی ہے اور پیٹ بڑھ جاتا ہے اتنا کہ مثال کے طور پر ہم کہہ دیں کہ اس کے اندر ایک ہاتھی چھپ جائے۔غرض اس سے اپنا پیٹ سنبھالا نہیں جاتا کیونکہ ایک تو اس نے غیر متوازن غذا کھائی اور جو کھائی اس کے ہضم کا انتظام نہیں کیا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے زمین کی ہر چیز کو موزوں پیدا کیا ہے۔ہر چیز میں توازن کا قانون جاری کیا ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ کسی چیز کی موزونیت نسبت سے تعلق رکھتی ہے یہ انسان کی نسبت ہے کیونکہ ہر چیز کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور پھر تمام انسانوں میں سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفت ہے جن کے لئے یہ ساری مخلوق ظہور پذیر ہوئی۔آپ انسانیت کا نچوڑ اور جوہر کامل ہیں۔آپ کو انسانیت کا کمال حاصل ہوا۔غرض ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے آپ کی علوّ شان کا اظہار کر سکیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو میں نے تمہیں پیدا کیا تمہیں بے شمار قابلیتیں عطا کیں۔تمہارے اندر جسمانی قابلیتیں رکھیں۔تمہارے اندر ذہنی قابلیتیں رکھیں۔پھر تمہارے اندر اخلاقی قابلیتیں