انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 119
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث 119 سورة الاعراف یعنی گڑی اس رفتار سے بڑھ رہی ہوتی ہے کہ اس کی آواز انسان اپنے کانوں سے سُن سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ چاند کی روشنی پھلوں کو فربہی بخشتی ہے اور پھر بھی چاند میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوئی۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی گوناگوں صفات کے جلوے ہیں جو سورج اور چاند کے زمین کے ساتھ تعلقات میں ہمیں یہاں اور وہاں نظر آتے ہیں۔یہ ہے وہ زمین جسے قرآن کریم نے الارض کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔اب میں ان جزئیات کے ذکر کو چھوڑ کر کہ ان کا بیان کرنا بھی ضروری تھا زمین کی بعض اصولی خصوصیات کی طرف آتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَانبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوزُونِ (الحجر:٢٠) کہ ہم نے زمین میں ہر چیز موزوں پیدا کی ہے۔موزوں کا لفظ ایک تو نسبت کو چاہتا ہے اور دوسرے یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جس میں متوازن ہونے کا مطالبہ ہے۔چنانچہ اسی لئے قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ہم نے اس زمین میں میزان قائم کیا ہے، اس زمین سے تعلق رکھنے والے صفات باری تعالیٰ کے جلوؤں میں اصولِ تو ازن کارفرما ہے اور ساتھ ہی فرمایا کہ تمہیں یہ حکم دیتے ہیں :۔الا تَطْعُوا فِي الْمِيزَانِ (الرحمن : 9) کہ اس اصول توازن کو توڑنے کی کوشش نہ کرنا اور نہ تم سخت نقصان اٹھاؤ گے۔مثلاً کھانے پینے میں Balanced Diet ( متوازن غذا کے محاورہ کو ہماری موجودہ سائنس نے بھی اختیار کر لیا ہے اور میزان کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے متوازن غذا کے اصول کو دریافت کیا ہے یعنی ہماری غذا کے جو معلوم اجزا ہیں ان میں ایک معین تو ازن ہونا چاہیے۔غذا میں اتنی پروٹین ہو اتنی مقدار میں لحمیات کی ہو اس میں اتنا میدہ ہو اس کے اندر وٹامن کی ایک خاص مقدار پائی جاتی ہو۔پھر Mineral salts ( نمکیات) ہیں۔Fat یعنی چکنائی ہے جو گھی اور مکھن کی شکل میں ہوتی ہے۔گھی صرف گائے بھینس کا نہیں بلکہ جو گھی مصنوعی طور پر تیار کئے جاتے ہیں مثلاً تو ریہ سے مصنوعی گھی تیار کیا جاتا ہے وہ بھی گھی کی ایک قسم ہے اور اس میں چکنائی پائی جاتی ہے۔پس گھی اور پروٹین ہے میں نے سمجھانے کے لئے پروٹین کا مطلق لفظ بول دیا ہے ورنہ اس کی آگے آٹھ نو معلوم قسمیں ہیں ابھی اور آگے پتہ نہیں کتنی قسمیں معلوم ہوں۔غرض غذا کی ان تمام چیزوں میں توازن ہونا چاہیے۔ہر