انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 117
۱۱۷ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث پہنچانا بھی مد نظر رکھا۔چنانچہ ہمارے یہ دن اور یہ راتیں جس شکل میں ہمارے سامنے آتی ہیں اور ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں اس کا دارو مدار اس حقیقت پر ہے کہ زمین سورج سے ایک معین فاصلے پر ہے اور زمین ایک معین رفتار سے سورج کے گرد چکر کاٹ رہی ہے اور یہ ایک خاص زاویہ پر اپنا محور بنا رہی ہے اور پھر زمین کی اپنی رفتار بھی معین و مقرر ہے۔یہ سارے حقائق جن کے نتیجہ میں یہ دن جو ہماری اس زمین کا دن کہلاتا ہے وہ دن بنتا اور یہ رات جو ہماری اس زمین کی رات ہے وہ رات بنتی ہے۔کچھ عرصہ ہوا مجھے ایک ایسی کتاب پڑھنے کا موقع ملا جو ایک سائنس دان نے لکھی ہے اور جس میں اس نے خدا تعالیٰ کے وجود پر بہت کچھ لکھا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ جولوگ خدا تعالیٰ کی ہستی کے منکر ہیں وہ ہر چیز کو اتفاقی کہتے ہیں اور ہر چیز کے بارے میں اتفاقی ، اتفاقی کی رٹ لگاتے چلے جاتے ہیں۔مگر ان سارے اتفاقات کا جمع ہو جانا اتفاقی نہیں ہو سکتا۔ایک سائنس یعنی ایک خاص علم ایجاد کیا گیا ہے جسے Science of chances ( علم اتفاقات) کہتے ہیں۔چنانچہ اس سائنس دان نے بھی اس خاص علم یا اس علم کے خاص اصول کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ حقائق اشیاء کی رُو سے ہستی باری تعالیٰ کا انکار نہیں ہو سکتا اس کی وہ مثال دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ دس ہند سے لکھ کر قرعہ نکالیں ۱/۱۰ چانس یہ ہے کہ ایک پہلے قرعہ میں نکل آئے اور اسی طرح ۱/۱۰۰ چانس یا ۱/۱۰۰۰ چانس یہ ہے کہ دوسری اور تیسری بار بھی ایک نکلے۔علیٰ ہذا القیاس۔وہ لکھتا ہے کہ زمین اور اس پر انسان کا وجود، انسانی حیات کا امکان اور بقا اور ارتقا کی سہولتیں یہ اتنی چیزوں سے وابستہ ہیں کہ ہر چیز کو اور اس لمبے سلسلے کو Chance یعنی اتفاق کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا اس کے لئے کوئی جائز وجہ ہونی چاہیے جس کو ہماری عقل بھی تسلیم کرے۔پھر اس نے آگے Chances (اتفاقات ) گنوانے شروع کئے۔وہ لکھتا ہے اگر زمین سورج سے اتنے فاصلے پر نہ ہوتی جتنے فاصلے پر اب ہے تو اگر اس فاصلے سے قریب ہوتی تو دنیا کی ہر چیز کوئلہ بن جاتی اور اگر تھوڑی سی دُور ہوتی تو ہر چیز یخ بستہ ہو کر رہ جاتی۔اسی طرح چاند زمین سے ایک خاص فاصلے پر ہے۔وہ لکھتا ہے کہ اگر چاند زمین سے ایک نیزے کے برابر بھی قریب ہوتا تو سمندر کے جوار بھاٹے کی لہریں کوہ ہمالیہ کی چوٹیوں تک پہنچ جاتیں مگر چاند کے زمین سے ایک خاص فاصلے پر ہونے کی وجہ سے سمندر کی لہریں اعتدال پر رہتی ہیں۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ