انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 116 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 116

117 سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث آثار الصفات کے نوادر مخفی ہیں اور زمین میں بھی آثار الصفات کے نوار مخفی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشا اور ارادہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔پس زمین کا ایک حصہ تو عیاں ہے اور اس کا ایک حصہ گٹھڑی کی طرح بندھا ہوا بھی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس نظام کے ماتحت انسان کے اندر ایک Urge ( خواہش رکھی تھی، ایک عزم عطا کیا تھا، ایک ہمت دی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلوؤں میں نئی سے نئی معلومات کو تلاش کرے۔چنانچہ اس Urge ( خواہش کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر دیئے گئے جن سے انسان ہمیشہ فائدہ اُٹھاتا رہا ہے اور آئندہ بھی اُٹھاتا رہے گا۔پس خدا تعالیٰ کے نزدیک قرآن کریم کی رُو سے زمین بیک وقت رتق کی بھی اور فتق کی بھی اہلیت رکھتی ہے اور یہ فتق دراصل الہی منشا اور حکم سے ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان اس دنیوی زندگی میں دنیوی طور پر ارتقا کے بے شمار مدارج طے کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی طے کرتا چلا جائے گا۔ہمارا دماغ اس کی حد بست کرنے سے عاجز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خدا کا قول اور اس کا فعل یکساں ہوتے ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بیک وقت وہ کتاب مبین بھی ہے اور کتاب مکنون بھی ہے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کا جو فعل ہے یعنی خدا تعالیٰ کی صفات نے جو حدوث کا رنگ اختیار کیا اُس کے متعلق اس آیت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا جو جلوہ زمین کی صورت میں ظاہر ہوا ہے وہ بیک وقت رتق بھی ہے اور فتق کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔یہ زمین بندھی ہوئی بھی ہے اور اپنے ظاہر ہونے کی اہلیت بھی رکھتی ہے اس میں بظاہر کوئی تضاد نہیں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخفی رازوں کا انکشاف انسانی کوشش کا مرہونِ منت ہے۔جب انسان کوشش کرتا ہے اور تلاش و جستجو میں اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کائنات کے مخفی راز اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں جس سے ترقیات کے نئے سے نئے میدان اُس کے لئے نکلتے چلے جاتے ہیں۔قرآن کریم نے زمین کی ایک اور خصوصیت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے فرماتا ہے:۔هُوَ الَّذِي خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارِ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (الانبياء : ۳۴) اب خالی یہ نہیں فرمایا کہ دن اور رات کو پیدا کیا بلکہ دن اور رات جس طرح پیدا ہوئے ان کا علم بہم