انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 115
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۱۵ سورة الاعراف ہیں یا ایک ہی قسم کی بارش بادلوں سے نازل ہوتی ہے اور فصلوں کو سیراب کرتی ہے لیکن ہم کہتے ہیں یہ زمین گندم کے لئے اچھی ہے، یہ زمین دھان کے لئے اچھی ہے، یہ زمین کپاس کے لئے اچھی ہے، یہ زمین تیل کے بیجوں کیلئے اچھی ہے، یہ زمین آم کے درخت لگانے کے لئے اچھی ہے، یہ زمین امرود کے پیڑوں کے لئے اچھی ہے، یہ زمین سنگترے مالٹے اُگانے کیلئے اچھی ہے اور یہ زمین جہاں کچھ اور نہیں اُگتا شور اور کلر والی ہے یوکلپٹس کیلئے اچھی ہے۔غرض ایک جیسی زمین اور ایک ہی جیسا پانی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک خاص حکمت کے ماتحت یہ انتظام کیا کہ اس میں سے مختلف نوع کی چیز میں پیدا ہوں میں اس کی کسی قدر تفصیل آگے بیان کروں گا ) جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی رُو سے زمین کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں باوجود اس کے پہلو بہ پہلو ہونے اور ایک ہی پانی سے سیراب ہونے کے مختلف انواع کے اجناس اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں۔پس زمین کی یہ خصوصیت بھی دراصل خدا تعالیٰ کے بے شمار جلوؤں پر مشتمل ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: - أَنَّ السَّبُوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا ( الانبياء : ٣١) زمین میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار جلوے ہمیں نظر آتے ہیں۔یہ زمین ایک ہی وقت میں بندھی ہوئی گٹھڑی کی طرح بھی ہے اور فتق یعنی کھلنے یا اپنے مخفی رازوں کے ظاہر کرنے کی خاصیت بھی رکھتی ہے۔ورنہ اگر حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں ایک ہی نسل میں وہ ساری کی ساری ایجادات جو انسان نے انسانی عمر میں کرنی تھیں یا وہ Discoveries ( دریافتیں) یا معلومات حاصل کرنی تھیں ایک ہی وقت میں رونما ہو جاتیں اور یہ ریلیں اور ہوائی جہاز اور یہ راکٹ اور یہ مختلف قسم کی دوائیاں وغیرہ پہلے زمانوں ہی میں بنالی جاتیں تو ہمارا یہ زمانہ بڑا Bore ( اُکتا دینے والا) ہوتا اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو ایک Urge ( خواہش رکھی ہے کہ وہ نئی سے نئی چیزیں تلاش کرے اس خواہش کو پورا کرنے کا اُسے کوئی سامان میسر نہ آتا۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ آسمان اور زمین بندھی ہوئی گٹھڑی کی طرح بھی ہیں اور اپنے اندر فتق کی خاصیت بھی رکھتے ہیں۔ایجادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہے۔انسان نئی سے نئی معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ آسمان میں بھی